یومِ عاشور کے موقع پر نواسۂ رسول حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کی یاد میں ملک بھر میں شبیہِ ذوالجناح کے جلوس عقیدت و احترام کے ساتھ نکالے جا رہے ہیں۔ مختلف شہروں میں عزادار نوحہ خوانی کرتے ہوئے حضرت امام حسینؓ اور ان کے جان نثار ساتھیوں کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں، جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے جلوسوں کی سیکیورٹی کے لیے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ جلوسوں کی نگرانی سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے کی جا رہی ہے اور مختلف مقامات پر طبی امداد، سبیلوں اور دیگر سہولیات کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق کراچی میں یومِ عاشور کا مرکزی جلوس نشتر پارک سے برآمد ہوا، جہاں عزاداروں کی بڑی تعداد جلوس کے ہمراہ رواں دواں ہے۔ جلوس اپنے روایتی اور مقررہ راستوں سے گزرتا ہوا امام بارگاہ حسینیہ ایرانیاں کھارادر پہنچ کر اختتام پذیر ہوگا۔
اس موقع پر سیکیورٹی کے لیے پانچ ہزار سے زائد پولیس افسران اور اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ جلوس کی گزرگاہوں کی سی سی ٹی وی کیمروں سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔
عزاداروں کی سہولت کے لیے مختلف مقامات پر سبیلیں قائم کی گئی ہیں اور طبی امداد کی فراہمی کے لیے خون کے عطیات کے کیمپ بھی لگائے گئے ہیں۔
لاہور میں گزشتہ روز نثار حویلی سے برآمد ہونے والا مرکزی شبیہِ ذوالجناح کا جلوس آج بھی اپنے روایتی راستوں پر گامزن ہے۔ جلوس سخت سیکیورٹی حصار میں اندرون لاہور کے مختلف علاقوں سے گزرتا ہوا کربلا گامے شاہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوگا۔ انتظامیہ کی جانب سے راستوں میں سبیلوں، طبی امداد اور دیگر سہولیات کا انتظام کیا گیا ہے۔
شہر میں جلوس کی سیکیورٹی کے لیے بارہ ہزار سے زائد پولیس افسران اور اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ واک تھرو گیٹس، میٹل ڈیٹیکٹرز، سی سی ٹی وی مانیٹرنگ، سادہ لباس کمانڈوز اور اہم مقامات پر سنائپرز بھی تعینات ہیں۔
اُدھر راولپنڈی میں مرکزی جلوس کرنل مقبول امام بارگاہ سے برآمد ہوا، جو راجا بازار، جامع مسجد روڈ اور پرانا قلعہ سے گزرتا ہوا قدیمی امام بارگاہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوگا۔ جلوس کی حفاظت کے لیے آٹھ ہزار سے زائد پولیس افسران اور اہلکار تعینات ہیں، جبکہ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے بارہ سو سے زائد ٹریفک پولیس اہلکار بھی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں۔ عزاداروں کی واک تھرو گیٹس اور میٹل ڈیٹیکٹرز کے ذریعے تلاشی لی جا رہی ہے، جبکہ شہر بھر میں دو ہزار سے زائد سیف سٹی اور دیگر کیمروں کے ذریعے نگرانی کا نظام فعال ہے۔
پشاور میں شبیہِ ذوالجناح کے 12 جلوس نکالے جا رہے ہیں۔ مرکزی جلوس امام بارگاہ آغا سید علی شاہ رضوی سے برآمد ہو کر اپنے مقررہ راستوں سے گزرتا ہوا امام بارگاہ آغا مصطفیٰ شاہ میں اختتام پذیر ہوگا۔
نمازِ مغرب کے بعد مختلف امام بارگاہوں میں مجالس عزا منعقد کی جائیں گی۔ شہر میں دس ہزار سے زائد پولیس اہلکار سیکیورٹی کی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں، جبکہ فرنٹیئر کور (ایف سی) کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں۔ کوہاٹی چوک میں سپریم کمانڈ پوسٹ قائم کی گئی ہے اور جلوسوں کی فضائی نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔
کوئٹہ میں بھی یومِ عاشور کا مرکزی جلوس علمدار روڈ سے برآمد ہو کر اپنے مقررہ راستوں پر منزل کی جانب رواں دواں ہے۔ شہر میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور اکیس ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار فرائض انجام دے رہے ہیں۔ سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بھی معطل رکھی گئی ہے۔
دوسری جانب یومِ عاشور کے موقع پر ملک بھر میں سیکیورٹی کو ہائی الرٹ رکھا گیا ہے۔ حساس شہروں میں پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تعینات ہیں، جبکہ سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کئی شہروں میں موبائل فون سروس بھی جزوی یا مکمل طور پر معطل کی گئی ہے۔
ادھر صوبائی وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے نواب شاہ میں شبِ عاشور کے جلوس کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ بھر میں مجالس اور جلوس ان شاء اللہ پرامن ماحول میں اختتام پذیر ہوں گے۔
انہوں نے بتایا کہ یومِ عاشور کے موقع پر سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں۔
صوبائی وزیر داخلہ کے مطابق صوبے بھر میں سیکیورٹی کے لیے 53 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ رینجرز کے 16 ہزار اہلکار بھی فرائض انجام دے رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پاک فوج کو کوئک رسپانس فورس کے طور پر اسٹینڈ بائی رکھا گیا ہے تاکہ امن و امان کی صورتحال کو ہر صورت یقینی بنایا جا سکے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عوام قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کریں، جلوسوں کے مقررہ راستوں اور سیکیورٹی ہدایات پر عمل کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں تاکہ یومِ عاشور کے تمام اجتماعات پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہو سکیں۔
عوام کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ملک کے مختلف حصوں میں ڈبل سواری پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ یہ پابندی اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ جلوسوں اور دیگر مذہبی تقریبات میں کسی بھی قسم کی بد امنی یا تصادم کا سامنا نہ ہو۔
یوم عاشورہ کا دن مسلمانوں کے لیے صبر، قربانی، اور اصولوں پر ڈٹے رہنے کا پیغام ہے۔ اس دن حضرت امام حسینؓ نے اپنے اہلِ خانہ اور رفقاء کے ہمراہ کربلا کے میدان میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے باطل کے خلاف حق کی آواز بلند کی تھی اور اس عظیم قربانی کی یاد میں ہر سال یہ دن مذہبی عقیدت سے منایا جاتا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






