ایرانی ریال خریدنا واقعی سودمند؟خریدار کو کتنا فائدہ ہوگا!اہم خبر آ گئی

ایران امریکا معاہدے کے بعد ایک بار پھر ایرانی ریال کی قدر میں اضافہ اور خریداری بڑھ رہی ہے۔

 

ایران امریکا امن معاہدے کے بعد ایران پر سے امریکی معاشی پابندیاں ہٹنے کے تناظر میں ایک بار پھر ایرانی ریال کی قدر میں اضافہ ہو رہا ہے اور لوگ منافع کے لیے اس میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔

 

لیکن کیا ایرانی ریال خریدنا واقعی سودمند ہوگا اور اس سے خریدار کو کتنا فائدہ ہوگا، اس حوالے سے چیئرمین ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن ملک بوستان نے  نجی ٹی وی سے گفتگو میں اپنا تجزیہ پیش کیا۔

 

ملک بوستان نے اچانک ایران کی کرنسی ویلیو میں اضافے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جب 2016 میں صدر اوباما نے ایران پر سے پابندیاں جزوی طور پر ہٹا دی تھیں، تو ایک کروڑ ایرانی ریال 10 سے 12 ہزار روپے میں آتا تھا جو بڑھ کر 60 ہزار روپے تک چلا گیا تھا،لوگوں کا خیال تھا کہ یہ ایک لاکھ تک جائے گا اور چلا بھی جاتا اگر 2018 میں ٹرمپ حکومت ایران پر دوبارہ پابندیاں نہ لگاتی۔

 

انہوں نے کہا کہ اب بھی کچھ یہی صورتحال ہے28 فروری کو ایران جنگ شروع ہونے سے قبل جب امریکا سے جنگ بندی ہوئی تو ایرانی ایک کروڑ ریال کی قیمت 10 سے 13 ہزار پاکستانی روپے ہو گئی  لیکن جب معاہدہ نہ ہوا تو پھر دو ہزار تک آ گئی اور اب دونوں ممالک میں ایم او یو سائن ہونے کے بعد پھر اس کی قیمت چار ہزار روپے تک چلی گئی ہے۔

 

یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا امکان

 

ملک بوستان نے کہا کہ اب سرمایہ کاری کرنے والے لوگوں کا خیال ہے کہ اب جب ایران پر سے پابندیاں ختم ہو رہی ہیں اور اس کے منجمد اثاثے بھی اس کو مل رہے ہیں تو یہ دوبارہ 60 ہزار یا ایک لاکھ تک جا سکتا ہے، اسی سوچ کے ساتھ سرمایہ کاری ہو رہی ہے تاہم زیادہ تر چھوٹے سرمایہ کار اس میں پیسہ لگا رہے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ ایرانی ریال میں سرمایہ کاری میں دونوں رسک ہیں اگر معاہدہ نہ ہوا اور دوبارہ جنگ ہوئی تو یہ دوبارہ دو ہزار پر آ سکتا ہے اور اگر معاہدہ طے پا جاتا ہے تو 60 ہزار سے ایک لاکھ تک بھی جا سکتا ہے۔

 

ملک بوستان نے ایرانی ریال کی خریداری میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو مشورہ دیا کہ شارٹ ٹرم سرمایہ کاری کریں، لمبے منصوبے نہ بنائیں، ابھی ایرانی ریال کا جو ریٹ چل رہے ہیں، اس میں خرید لیں اور اس سے اوپر 6 یا 8 ہزار تک قیمت جائے تو اس کو بیچ دیں تو ڈبل منافع ہو جائے گا، زیادہ لمبے منافع کے چکروں میں پڑیں اور نہ ہی زیادہ سرمایہ کاری کریں، 10، 50 ہزار یا لاکھ سے زیادہ کی انویسٹمنٹ نہ کریں۔

 

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پابندیاں ہٹنے سے ہمارا بلین ڈالر منصوبہ گیس پائن لائن بحال ہوگا جس سے ہمارا انرجی کا بل 50 فیصد کم ہو جائے گا، جتنی ڈیولپمنٹ ہونی ہے، ایران میں ہونی ہے، بہت بڑی مارکیٹ پاکستان کے قریب کھلنے والی ہے، جہاں پاکستان سے افرادی قوت جائے گی۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close