شدید گرمی کے باعث علاقوں الرٹ جاری، تعلیمی ادارے بند

پیرس: یورپ کے مختلف ممالک بدستور شدید اور ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر کی زد میں ہیں، جس کے باعث فرانس میں ہزاروں گھر بجلی سے محروم ہو گئے جبکہ کئی ممالک میں روزمرہ زندگی، ٹرانسپورٹ اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔

عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق بدھ کے روز بھی یورپ میں شدید گرمی برقرار رہی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر معمولی موسمی صورتحال ایسے فضائی نظام کے باعث پیدا ہوئی ہے جو گرم ہوا کو کئی دنوں تک ایک ہی علاقے میں روکے رکھتا ہے، جبکہ موسمیاتی تبدیلی نے اس صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

فرانس کے قومی موسمیاتی ادارے کے مطابق ملک کا اوسط درجہ حرارت 29.8 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جو 1947 سے ریکارڈ کیے جانے والے اعداد و شمار میں سب سے زیادہ ہے۔

شدید گرمی کے باعث فرانس کے شمال مغربی علاقے فینسٹر میں ٹرانسفارمر خرابی کے نتیجے میں تقریباً 68 ہزار گھرانوں کی بجلی معطل ہو گئی۔ حکام کے مطابق گرمی کی شدت سے بجلی کے نظام پر غیر معمولی دباؤ پڑا، جس کے باعث یہ مسئلہ پیدا ہوا۔ منگل اور بدھ کی درمیانی شب تک ایک لاکھ سے زائد صارفین بجلی کی بندش سے متاثر رہے۔

شدید گرمی کے باعث فرانس میں پنکھوں اور ایئر کنڈیشنرز کی فروخت میں بھی ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ اٹلی، برطانیہ، بیلجیئم، نیدرلینڈز، اسپین، پولینڈ، ہنگری اور کروشیا بھی شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد شہروں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

دوسری جانب جنوبی فرانس کے علاقے ووکلیوز میں افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں 4 سالہ بچی اور 2 سالہ بچہ گاڑی میں گھنٹوں بند رہنے کے باعث دم گھٹنے سے جاں بحق ہو گئے۔ پولیس کے مطابق 33 سالہ والدہ خریداری کے دوران بچوں کو گاڑی میں بھول گئی تھی۔

امدادی اہلکاروں کو دوپہر ایک بج کر 20 منٹ پر اطلاع ملی، تاہم دونوں بچوں کی جان نہ بچائی جا سکی۔ حکام کے مطابق بند گاڑی کے اندر درجہ حرارت 70 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔ واقعے کے بعد بچوں کی والدہ کو حراست میں لے کر تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ فرانس میں جاری شدید گرمی کی لہر کے باعث متعدد علاقوں میں ریڈ الرٹ نافذ ہے جبکہ سیکڑوں تعلیمی ادارے بھی بند کر دیے گئے ہیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close