سپریم کورٹ میں تیل و گھی کی قیمتوں سے متعلق کیس میں اہم پیشرفت سامنے آ گئی

سپریم کورٹ پاکستان نے تیل اور گھی کی قیمتوں سے متعلق کیس میں مینوفیکچررز آف بناسپتی ایسوسی ایشن کی اپیل پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں تیل اور گھی کی قیمتوں سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔

سماعت کے دوران ایسوسی ایشن کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت کی درخواست پر گھی اور آئل کی قیمتوں میں کمی کی گئی تھی اور اس حوالے سے تمام ریکارڈ موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ مسابقتی کمیشن نے 2010 میں 2008 کے ریکارڈ کی بنیاد پر کارروائی کی۔ جبکہ قیمتوں میں کمی صارفین کے مفاد میں کی گئی تھی۔

دوسری جانب مسابقتی کمیشن کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ حکومت کے کہنے پر بھی ایسوسی ایشن قیمتوں میں کمی کا فیصلہ نہیں کر سکتی تھی۔ ایسوسی ایشن کے پاس قیمتوں کے تعین کا اختیار نہیں ہو سکتا کیونکہ ایسے فیصلے مسابقتی ماحول کو متاثر کرتے ہیں۔ آزاد مسابقت ہی قیمتوں میں کمی کا باعث بنتی ہے۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ ہمارے ملک میں مسائل کی بنیادی وجوہات کو نہیں دیکھا جاتا۔ اگر مسابقتی کمیشن کا مؤقف تسلیم کر لیا جائے تو مستقبل میں حکومت بھی بعض معاملات میں مؤثر کردار ادا نہیں کر سکے گی۔

جسٹس صلاح الدین پنہور نے ریمارکس دیئے کہ پولٹری کیس میں ایسوسی ایشن پر جرمانے کا فیصلہ پہلے ہی ہو چکا ہے۔

یاد رہے کہ مسابقتی کمیشن نے 2010 میں قیمتوں میں کمی کے فیصلے پر مینوفیکچررز آف بناسپتی ایسوسی ایشن پر 5 کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا تھا۔ عدالت نے تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close