ملک بھر میں ٹیکسٹائل ملز بند ہونے کا شدید خطرہ

لاہور: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کے درمیان فیکٹریوں میں ڈیجیٹل مانیٹرنگ کیمرے نصب کرنے کے معاملے پر تنازع شدت اختیار کر گیا ہے، جس کے باعث ملک بھر میں ٹیکسٹائل ملز کی بندش کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایف بی آر نے ٹیکس چوری کی روک تھام کے لیے ٹیکسٹائل ملز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے خرچے پر فیکٹریوں کے اندر سیکیورٹی اور مانیٹرنگ کیمرے نصب کریں۔

تاہم ٹیکسٹائل ملز مالکان نے اس اضافی مالی بوجھ کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کے ذرائع کے مطابق صنعتکار موجودہ معاشی حالات میں کروڑوں روپے کے اضافی اخراجات برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر دباؤ برقرار رہا تو فیکٹریوں کی بندش کا امکان موجود ہے۔

ٹیکسٹائل صنعت کے نمائندوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگر ایف بی آر کو نگرانی درکار ہے تو اس کا خرچہ بھی خود برداشت کیا جائے، جس طرح دیگر سرکاری نگرانی کے نظام میں لاگت عوام یا متعلقہ ادارے اٹھاتے ہیں۔

اپٹما ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں ٹیکسٹائل ملز کی تعداد کم ہو کر تقریباً 180 رہ گئی ہے۔ صنعتکاروں کے مطابق ٹیکس وصولی بڑھانے کے لیے جیننگ اور اسپننگ سیکٹر سمیت دیگر بڑے صنعتی شعبوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جانا چاہیے۔

صنعتی حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ اس صورتحال سے نہ صرف صنعت متاثر ہوگی بلکہ ملکی برآمدات کو بھی شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close