خیبر پختونخوا کے نئے فنانس بل 2026 کے تحت 20 ہزار روپے سے 3 لاکھ روپے تک ماہانہ آمدنی رکھنے والوں پر سالانہ پروفیشنل ٹیکس مقرر کر دیا گیا ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق نیا فنانس بل یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوگا، جس کے تحت صوبے میں مختلف مالیاتی اصلاحات اور ٹیکس اقدامات متعارف کرائے جا رہے ہیں۔ بل میں مختلف ٹیکسوں، فیسوں اور سیس میں اہم ترامیم کی تجویز دی گئی ہے۔
فنانس بل کے مطابق کم از کم اجرت تک آمدنی رکھنے والے افراد کو پروفیشنل ٹیکس سے مکمل استثنیٰ حاصل ہوگا جبکہ گریڈ 1 سے 6 تک کے سرکاری ملازمین پر بھی کوئی پروفیشنل ٹیکس لاگو نہیں ہوگا۔
20 ہزار روپے ماہانہ آمدنی تک کے افراد کے لیے سالانہ 1400 روپے پروفیشنل ٹیکس تجویز کیا گیا ہے، جبکہ 3 لاکھ روپے سے زائد ماہانہ آمدنی رکھنے والوں پر 5500 روپے سالانہ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے۔
بل کے مطابق گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے سرکاری ملازمین پر 4000 روپے سالانہ پروفیشنل ٹیکس مقرر کیا گیا ہے۔
فنانس بل میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ 30 جون 2026 تک کے بقایاجات پر خصوصی ٹیکس ریلیف دیا جائے گا، جبکہ رہائشی املاک کے 31 دسمبر 2026 تک کے بقایاجات یکمشت ادا کرنے پر 30 فیصد رعایت دی جائے گی۔
اس کے علاوہ سیاحت اور ہوٹل انڈسٹری سے متعلق بھی نئی تجاویز شامل کی گئی ہیں، جن کے تحت پی او ایس سسٹم سے منسلک ہوٹلوں پر کمروں کے کرایے کا 5 فیصد ٹیکس اور غیر منسلک ہوٹلوں پر 10 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






