امریکی اور عرب نے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے خفیہ معاہدے کی اہم ترین تفصیلات جاری کردی ہیں۔
اگرچہ اس معاہدے کا متن ابھی سرکاری طور پر عوام کے لیے جاری نہیں کیا گیا ہے، لیکن امریکی نشریاتی ادارے ’بلومبرگ‘ اور عرب نشریاتی ادارے ’العریبیہ‘ نے رپورٹس جاری کی ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں ملکوں نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ روکنے، سمندری راستوں کو کھولنے، ایران کے تیل پر لگی پابندیوں کو عارضی طور پر ہٹانے اور مستقبل میں ایک پکے امن معاہدے کی طرف بڑھنے کا پورا فریم ورک تیار کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اس معاہدے میں سب سے اہم بات ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں ہے۔
مبینہ دستاویز کے مطابق، اس وقت ایران کے ایٹمی پروگرام کا کوئی پکا اور مستقل حل تو نہیں نکالا گیا، لیکن ایران نے یہ پکا وعدہ کیا ہے کہ وہ کبھی بھی ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا اور نہ ہی انہیں حاصل کرے گا۔ اس کے ساتھ ہی، ایران اس بات پر بھی راضی ہو گیا ہے کہ وہ اپنے پاس موجود انتہائی افزودہ یورینیم کو ختم کرنے یا ملک سے باہر بھیجنے جیسے معاملات پر اگلے ساٹھ دنوں میں مزید بات چیت کرے گا۔
یہ ساٹھ دنوں کا وقت جمعہ کے روز معاہدے پر دستخط ہونے کے فوراً بعد شروع ہو جائے گا۔
اس پورے ڈھانچے میں ایران پر لگی پابندیاں ہٹانے، سمندری سیکیورٹی کو بحال کرنے اور وقت آنے پر امریکی فوجیوں کو اس علاقے سے واپس بلانے کے وعدے شامل کیے گئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس 14 نکاتی معاہدے میں سب سے پہلی اور بڑی شق یہ ہے کہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر جاری جنگ کو فوری اور ہمیشہ کے لیے ختم کیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق، امریکا اور ایران نے اپنے اتحادیوں سمیت یہ ذمہ داری اٹھائی ہے کہ وہ اب سے ایک دوسرے کے خلاف کوئی بھی کارروائی نہیں کریں گے اور نہ ہی ایک دوسرے کو طاقت کے استعمال کی دھمکی دیں گے۔
اگرچہ اس تحریر میں اسرائیل کا نام سیدھے لفظوں میں نہیں لکھا گیا، لیکن تمام محاذوں اور اتحادیوں کے ذکر سے صاف صاف پتہ چلتا ہے کہ لبنان پر اسرائیلی حملوں کو روکنا بھی اس ڈیل کا حصہ ہے۔
اس کے علاوہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی آزادی، حکومت اور حدود کا احترام کریں گے اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کریں گے۔
معاہدے کے تحت، جیسے ہی جمعہ کو اس خط پر دستخط ہوں گے، امریکا فوری طور پر ایران کی سمندری بندرگاہوں پر لگی ناکہ بندی کو ختم کر دے گا۔ اسی طرح ایران بھی فوری اقدامات کرے گا تاکہ آبنائے ہرمز کے سمندری راستے سے تجارتی جہازوں کا گزرنا دوبارہ اسی طرح شروع ہو سکے جیسے جنگ سے پہلے ہوا کرتا تھا، اور آبنائے ہرمز کو کو تیس دنوں کے اندر پرانی حالت میں واپس لایا جائے گا۔
جب حتمی اور پکا معاہدہ طے پا جائے گا، تو امریکا نے یہ وعدہ بھی کیا ہے کہ وہ اس حتمی معاہدے کے تیس دنوں کے اندر اندر اس علاقے کے آس پاس سے اپنی تمام فوجیں واپس بلا لے گا۔
ایک اور بہت بڑی بات یہ طے ہوئی ہے کہ امریکا اور اس کے علاقائی ساتھی مل کر ایران کی دوبارہ بحالی اور معاشی ترقی کے لیے ایک بہت بڑا اور جامع منصوبہ بنائیں گے، جس کے لیے کم از کم تین سو ارب ڈالر کے فنڈز یعنی پیسوں کا انتظام یقینی بنایا جائے گا۔ اس بڑے منصوبے کو کیسے لاگو کرنا ہے، اس کا طریقہ کار بھی ساٹھ دنوں کے اندر حتمی معاہدے کے حصے کے طور پر تیار کیا جائے گا۔
امریکا نے یہ ذمہ داری بھی لی ہے کہ وہ ایران پر لگی ہر قسم کی پابندیاں ختم کرے گا، جن میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل، بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی پابندیاں اور امریکا کی اپنی طرف سے لگی تمام چھوٹی بڑی پابندیاں شامل ہیں، اور ان پابندیوں کو ہٹانے کا ایک پورا ٹائم ٹیبل فائنل معاہدے میں طے کیا جائے گا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ جب تک یہ تمام پابندیاں پوری طرح ختم نہیں ہو جاتیں، تب تک امریکا ایران کو اپنے کچے تیل، پٹروکیمیکل کی چیزوں اور ان سے جڑی تمام سہولیات جیسے کہ بینکنگ، انشورنس اور جہاز رانی کو دوسرے ملکوں کو بیچنے کے لیے عارضی چھوٹ یعنی اجازت نامے جاری کرے گا۔
اس کے ساتھ ہی، جیسے جیسے فائنل معاہدے کی بات چیت آگے بڑھے گی، امریکا ایران کے روکے گئے پیسوں اور اثاثوں کو بھی آزاد کرتا جائے گا، اور یہ سارے پیسے ایران کا مرکزی بینک اپنی مرضی کے مطابق جہاں ضرورت ہو، پوری آزادی سے استعمال کر سکے گا۔
آخر میں یہ طے پایا ہے کہ اس پورے عمل پر نظر رکھنے کے لیے ایک خاص کمیٹی بنائی جائے گی جو یہ دیکھے گی کہ دونوں ملک اپنے وعدے پورے کر رہے ہیں یا نہیں، اور سب سے آخر میں اس فائنل امن معاہدے کو پکا کرنے کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے ایک منظور شدہ اور لازمی قرار داد بھی پاس کروائی جائے گی تاکہ کوئی بھی اپنی بات سے مکر نہ سکے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






