کراچی : کراچی صرافہ ایسوسی ایشن نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ساتھ تمام مذاکرات معطل کرنے اور اسلام آباد میں ہونے والے ہر قسم کے مذاکرات کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے۔
صرافہ جیم اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے صدر قاسم شکار پوری نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس شارٹ فال پورا کرنے کے لیے تاجروں پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے، جس کے خلاف کراچی سمیت سندھ بھر میں صرافہ مارکیٹیں بند ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایف بی آر حکام تاجروں سے رشوت طلب کرتے ہیں، اور پشاور میں ان کے دو اراکین سے 25 کروڑ روپے رشوت مانگی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال صرافہ برادری نے 22 ارب روپے کا ٹیکس ادا کیا، جبکہ اس سال ملک بھر کے جیولرز 44 ارب روپے ٹیکس ادا کریں گے۔
قاسم شکار پوری نے کہا کہ ایف بی آر کا رویہ ناقابل قبول ہے اور جیولرز کو گینگ وار طرز پر ہراساں کیا جا رہا ہے، جبکہ انہیں “بھتے کی پرچیاں” جاری کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ صرافہ برادری پی او ایس نظام اور انکم ٹیکس آرڈیننس کی سیکشن 175سی کو تسلیم نہیں کرتی، کیونکہ اس کے ذریعے جیولرز کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اس سیکشن کے خلاف عدالت میں ایک ماہ سے درخواست دائر ہے۔
صدر صرافہ ایسوسی ایشن نے بتایا کہ کراچی کے ایک جیولر کی پی او ایس مشین خراب ہونے پر دکان سیل کی گئی، جو قابل مذمت اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک گیر ہڑتال کا فیصلہ آئندہ مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






