ہم بانی کے سامنے کھڑے ہوئے، تم کیا ان سے بڑے بدمعاش ہو؟ وفاقی وزیر

کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے اندرونی اختلافات ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئے، جہاں پارٹی کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی اور وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کے درمیان لفظی محاذ آرائی دیکھنے میں آئی۔

رپورٹس کے مطابق حیدرآباد میں خطاب کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے نام لیے بغیر مصطفیٰ کمال کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم جبر سے نہیں ڈرے تو اس کے غلاموں سے کیا ڈریں گے، ہم نہیں بلکہ تم استعمال ہو رہے ہو، وہی ہوگا جو ایم کیو ایم چاہے گی، اپنی اوقات میں رہو اور اپنا قد ایم کیو ایم سے چھوٹا رکھو۔‘‘

خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ چیئرمین کو غیر قانونی قرار دینے والے خود غیر قانونی کارکن ہیں اور جو شخص تنظیم چھوڑ دے، اس کی رکنیت خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔

دوسری جانب مصطفیٰ کمال نے جوابی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’’میں سمجھا رہا ہوں، سنبھل جائیں اور ہم سے مشورہ کریں۔ اگر کہیں تو ایک رات میں چیئرمین بنوا دوں۔ اگر ہم ٹچوں سے ڈرنے والے ہوتے تو بانی کے سامنے کھڑے نہ ہوتے، تم کیا ان سے بڑے بدمعاش ہو۔‘‘

دونوں رہنماؤں کے حالیہ بیانات نے ایم کیو ایم پاکستان کے اندر جاری اختلافات کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close