ٹوکیو: جاپان کے سائنسدانوں نے انسانوں کے چلنے کے انداز سے متعلق ایک منفرد راز دریافت کیا ہے۔ ٹوکیو یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ زیادہ تر لوگ فطری طور پر گھڑی کی سوئی کی حرکت کے برعکس (کاؤنٹر کلاک وائز) چلنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
تحقیق دراصل کووڈ-19 کے دوران سماجی فاصلے سے متعلق رویوں کا جائزہ لینے کے لیے کی گئی تھی۔ محققین یہ جاننا چاہتے تھے کہ بند جگہوں میں لوگ ایک دوسرے سے فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے کس انداز میں چلنا پسند کرتے ہیں۔
تجربات کی ویڈیو ریکارڈنگ کا جائزہ لیتے ہوئے سائنسدانوں نے ایک غیر متوقع بات نوٹ کی۔ 33 میں سے 32 تجرباتی مشاہدات میں افراد نے کاؤنٹر کلاک وائز سمت میں چلنے کو ترجیح دی۔
محققین کے مطابق یہ رجحان حیران کن تھا کیونکہ بظاہر انسان فطری طور پر اسی سمت میں چلنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ تحقیق میں مختلف گروپس کو مختلف مقامات پر چلنے کی ہدایت دی گئی، جہاں تقریباً تمام افراد نے گھڑی کی سوئی کی مخالف سمت کا انتخاب کیا۔
سائنسدانوں نے بتایا کہ یہ رجحان مختلف ممالک کے افراد میں بھی یکساں طور پر دیکھا گیا، تاہم نوجوانوں میں اس حوالے سے معمولی فرق پایا گیا۔
تحقیق کے مطابق یہ رویہ ایک انفرادی فطری رجحان معلوم ہوتا ہے اور اس پر غالب ہاتھ یا پیر جیسے عوامل کا کوئی نمایاں اثر نہیں پڑتا۔
محققین کا کہنا ہے کہ ابھی تک اس ترجیح کی اصل وجہ معلوم نہیں ہو سکی، تاہم اس کی وجوہات جاننے سے انسانی فطرت اور رویوں کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
یہ تحقیق سائنسی جریدے Nature Communications میں شائع ہوئی ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






