نئے بجٹ میں کس کو ریلیف اور کس پر بوجھ؟ بڑی تفصیلات سامنے آگئیں

اسلام آباد : آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو انکم ٹیکس ریلیف ، تنخواہوں میں اضافے اور نئے ٹیکسوں کی تفصیلات سامنے آگئیں۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے تقریباً 18 ہزار 500 ارب روپے حجم کا بجٹ تیار کر لیا ہے، جس کی حتمی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کا اجلاس آج طلب کیا گیا ہے۔

ذرائعنے بتایا نئے بجٹ میں ایک طرف جہاں عوام اور ملازمین کو ریلیف دینے کی کوشش کی گئی ہے، دوسری جانب آئی ایم ایف کی شرائط پر اربوں روپے کے نئے ٹیکس اور لیویز بھی عائد کی جا رہی ہیں۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق، شدید مہنگائی کے پیشِ نظر حکومت نے پپسے ہوئے تنخواہ دار طبقے کو انکم ٹیکس میں 10 فیصد تک ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس کے علاوہ وفاقی ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اور پنشن میں 7 فیصد تک اضافے کی تجویز دی گئی ہے، جس کی حتمی منظوری آج وفاقی کابینہ کے اجلاس میں دی جائے گی۔

بجٹ کا سب سے بڑا حصہ قرضوں اور سود کی ادائیگیوں کی نذر ہو جائے گا، ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاق اپنے مجموعی بجٹ میں سے 7,824 ارب روپے صرف قرضوں اور سود کی ادائیگی پر خرچ کرے گا، جبکہ ملک کا مجموعی مالیاتی خسارہ 5,100 ارب روپے تک رہنے کا امکان ہے۔

بجٹ میں مجموعی طور پر 220 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے کی بھی تیاری ہے۔

ذرائع کے مطابق، نائب وزیراعظم اور مشیرِ صنعت ہارون اختر کی جانب سے کارپوریٹ سیکٹر کو سہولت دینے کے لیے سپر ٹیکس اور کارپوریٹ انکم ٹیکس (موجودہ شرح 29 فیصد) میں کمی کی بھرپور کوششیں کی گئیں، تاہم بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے ان دونوں تجاویز کو یکسر مسترد کر دیا ہے اور ٹیکسوں کی شرح برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔

آئی ایم ایف کی ماحولیاتی شرائط کے تحت ایندھن اور گاڑیوں پر نیا بوجھ ڈالا جا رہا ہے. پٹرولیم مصنوعات پر کلائمیٹ لیوی کو دگنا کر دیا جائے گا، جس سے حکومت کا 90 ارب روپے جمع کرنے کا ہدف ہے۔

اسی طرح 2000 سی سی اور اس سے زائد انجن کی حامل بڑی گاڑیوں پر 10 سے 19.5 فیصد تک کاربن لیوی عائد کرنے کی تجویز ہے۔

معاشی سرگرمیاں بڑھانے کے لیے حکومت رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں پراپرٹی کے لین دین پر ٹرانزیکشن ٹیکس میں کمی پر غور کر رہی ہے۔

اس کے علاوہ، مقامی صنعتوں کی مدد کے لیے صنعتی شعبے کے استعمال میں آنے والے سینکڑوں خام مال پر ڈیوٹی کم کیے جانے کا قوی امکان ہے تاکہ مینوفیکچرنگ لاگت نیچے لائی جا سکے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close