برطانیہ اور تیونس میں فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی اور غزہ میں جاری جنگ کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے گئے، جن میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی اور فلسطین کے حق میں نعرے بلند کیے۔
برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں فلسطین کے حامی مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور فلسطینی پرچم لہراتے ہوئے اسرائیلی پالیسیوں اور برطانوی حکومت کی اسرائیل کے لیے حمایت کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کی حمایت ختم کرے اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرے۔ گریٹر مانچسٹر میں تنظیم “فرینڈز آف فلسطین” کی جانب سے جاری ویڈیوز میں مظاہرین کو شہر کی مختلف سڑکوں پر مارچ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ شرکا نے “اسرائیلی قبضہ ختم کرو” کے نعرے لگائے اور ایک بڑا بینر بھی اٹھا رکھا تھا۔
یہ مارچ 1967 کی جنگ کے 59 سال مکمل ہونے کے موقع پر منعقد کیا گیا، جسے فلسطینی تاریخ میں “نکسا” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس جنگ کے بعد اسرائیل نے مغربی کنارے، مشرقی بیت المقدس اور غزہ کی پٹی پر قبضہ کر لیا تھا۔
دوسری جانب تیونس کے شمالی شہر بیزرت میں بھی فلسطین کے حق میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے حبیب بوختیفہ پارک میں جمع ہو کر غزہ پر جاری اسرائیلی حملوں اور انسانی بحران کے خلاف آواز بلند کی۔
مظاہرے کے دوران شرکا نے سرخ رنگ سے رنگے ہوئے علامتی تابوت رکھے، جن کے ذریعے غزہ میں ہونے والی ہلاکتوں اور انسانی صورتحال پر اپنے غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔ مظاہرین نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔
مبصرین کے مطابق غزہ کی صورتحال کے باعث دنیا کے مختلف ممالک میں فلسطینیوں کے حق میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے، جہاں لوگ جنگ کے خاتمے اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






