افسوسناک خبر ، ہنٹا وائرس کا حملہ، مزید اموات ہو گئیں

خطرناک ہنٹا وائرس نے جرمن کروز شپ کو نشانہ بنا کر تین افراد کو موت کی نیند سلا دیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کروز شپ میں 28 مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے تقریباً 150 مسافر اور عملے کے ارکان سوار تھے، جس کے باعث وائرس کے ممکنہ بین الاقوامی پھیلاؤ کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ 24 اپریل کو بحراوقیانوس میں واقع جزیرے سینٹ ہیلینا پر درجنوں مسافر جہاز سے اترے تھے،

جس کے بعد مقامی حکام نے فوری طبی نگرانی اور اسکریننگ کا عمل شروع کر دیا۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ وائرس کے انسان سے انسان میں منتقل ہونے کے ابتدائی شواہد سامنے آئے ہیں،
جس نے طبی حلقوں میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ دوسری جانب عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس اذانوم گیبریئس نے صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات کسی عالمی وبا کے آغاز کی نشاندہی نہیں کرتے،

تاہم تمام ممالک کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ ہنٹا وائرس عموماً متاثرہ شخص کے قریبی اور انتہائی ذاتی رابطے کے ذریعے منتقل ہوتا ہے،وائرس بخار، شدید کمزوری، سانس لینے میں دشواری اور جسمانی درد جیسی علامات پیدا کر سکتا ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close