سعودی حکومت کا الرٹ، عازمین کو احتیاطی ہدایات جاری

مکہ مکرمہ: مناسک حج کا آغاز آج 8 ذوالحجہ سے ہو گیا ہے، جبکہ عازمینِ حج کو منیٰ منتقل کرنے کا عمل گزشتہ رات نمازِ مغرب کے بعد شروع ہوا تھا، جو آج دن 10 بجے تک مکمل کیا جائے گا۔

کل 9 ذوالحجہ کو حج کا رکنِ اعظم وقوفِ عرفات ادا کیا جائے گا، جس کے لیے تمام عازمین کو ظہر سے قبل بسوں اور مشاعر ٹرین کے ذریعے میدانِ عرفات پہنچایا جائے گا۔

عازمینِ حج خطبہ حج کے بعد ظہر اور عصر کی نمازیں اپنے خیموں میں ادا کریں گے اور غروبِ آفتاب تک دعا، تسبیحات اور مناجات میں مشغول رہیں گے۔ اس کے بعد بغیر مغرب کی نماز ادا کیے مزدلفہ روانہ ہوں گے، جہاں مغرب اور عشا کی نماز ادا کی جائے گی اور کنکریاں جمع کی جائیں گی۔

10 ذوالحجہ کی صبح رمیِ جمرات، قربانی اور حلق یا قصر کے بعد عازمین احرام سے باہر آ جائیں گے، جبکہ 10 سے 12 ذوالحجہ کے دوران طوافِ زیارت اور دیگر مناسک ادا کیے جائیں گے۔

دوسری جانب سعودی عرب نے حج 2026 کے لیے سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔ مکہ مکرمہ اور مسجد الحرام کے اطراف جدید فضائی دفاعی نظام، ریڈار اور میزائل سسٹمز فعال کر دیے گئے ہیں۔

سعودی وزارت دفاع کے مطابق حج کے دوران زمینی اور فضائی نگرانی مسلسل جاری رہے گی تاکہ لاکھوں عازمین کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔

حکام کے مطابق اس سال دنیا بھر سے 15 لاکھ سے زائد عازمین حج ادا کر رہے ہیں، جبکہ تقریباً 30 فیصد عازمین روٹ ٹو مکہ انیشی ایٹو کے تحت جدید امیگریشن نظام سے سعودی عرب پہنچے۔

سعودی محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ حج کے دوران شدید گرمی کا امکان ہے، مکہ مکرمہ میں درجہ حرارت 47 ڈگری اور مدینہ منورہ میں 44 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ نمی کی شرح 40 فیصد تک رہے گی جبکہ بعض علاقوں میں گرد آلود ہوائیں اور مقامی سطح پر بارش کا بھی امکان ہے۔

حکام نے عازمین سے اپیل کی ہے کہ وہ ہدایات پر مکمل عمل کریں، پانی کا زیادہ استعمال کریں اور شدید گرمی سے بچاؤ کے اقدامات اختیار کریں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close