کینبرا: آسٹریلیا کی ایک عدالت نے ایلون مسک کی کمپنی ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر عائد جرمانے کو برقرار رکھا ہے، جس کے بعد تین سال سے جاری قانونی تنازع کا اختتام ہو گیا ہے۔
یہ جرمانہ آسٹریلیا کے انٹرنیٹ ریگولیٹر “ای سیفٹی” کی جانب سے 2023 میں عائد کیا گیا تھا، کیونکہ کمپنی پر الزام تھا کہ اس نے بچوں کی آن لائن حفاظت سے متعلق قوانین پر عملدرآمد کے حوالے سے مناسب معلومات فراہم نہیں کیں۔
کمپنی کا مؤقف تھا کہ یہ درخواست اس وقت کی گئی تھی جب پلیٹ فارم ٹوئٹر کے نام سے چل رہا تھا اور بعد میں اسے ایکس میں تبدیل کیا گیا، تاہم عدالت نے اس مؤقف کو تسلیم نہیں کیا۔
عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ کمپنی نے اپنی غلطی تسلیم کر لی ہے، لہٰذا اس پر 650,000 آسٹریلوی ڈالر جرمانہ برقرار رکھا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کمپنی کو ریگولیٹر کے قانونی اخراجات کی مد میں 100,000 ڈالر اضافی ادا کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔
جج نے ریمارکس دیے کہ بڑی ٹیک کمپنیوں کے لیے جرمانہ اتنا ہونا چاہیے کہ وہ محض کاروباری لاگت نہ بنے بلکہ حقیقی سزا کے طور پر اثر انداز ہو۔
یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا تھا جب فروری 2023 میں ٹوئٹر سے بچوں کے استحصال سے متعلق مواد روکنے کے اقدامات پر معلومات طلب کی گئی تھیں، جس کے بعد طویل قانونی کارروائی جاری رہی۔
ای سیفٹی کمشنر نے کہا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کو جوابدہ بنانے کے لیے شفافیت اور قوانین پر عملدرآمد نہایت ضروری ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






