خواتین اور مردوں کیلئے الگ قوانین… نادرا کا نیا فریم ورک جاری

اسلام آباد: نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے پیدائشی سرٹیفکیٹ کے بغیر شناختی کارڈ کے اجرا کے لیے ایک مشروط اور عارضی سہولت متعارف کرائی ہے، جو 31 دسمبر 2026 تک مؤثر رہے گی۔

نادرا کے مطابق ملک میں بالغ آبادی کی رجسٹریشن تقریباً 98.3 فیصد مکمل ہو چکی ہے، تاہم 1.7 فیصد افراد اب بھی رجسٹریشن سے باہر ہیں، جن میں خواتین کی شرح نسبتاً زیادہ ہے۔ ادارے کے مطابق اس کی بڑی وجہ بعض علاقوں میں پیدائشی سرٹیفکیٹس اور سول دستاویزات کی عدم دستیابی ہے۔

نادرا نے ادارہ شماریات، الیکشن کمیشن اور دیگر اداروں کے ساتھ مل کر گزشتہ دس سالہ ڈیٹا کا تفصیلی تجزیہ کیا، جس کے بعد یہ نیا فریم ورک تیار کیا گیا۔

نئے طریقہ کار کے تحت پیدائشی سرٹیفکیٹ کے بغیر بھی شناختی کارڈ جاری کیا جا سکے گا، تاہم اس کے لیے سخت بائیومیٹرک اور خاندانی تصدیقی شرائط رکھی گئی ہیں۔

خواتین کے لیے شوہر یا والدین کی شناختی دستاویزات اور بائیومیٹرک تصدیق لازمی ہوگی، جبکہ مردوں کے لیے والدین اور بہن یا بھائی کی موجودگی اور تصدیق ضروری قرار دی گئی ہے۔

نادرا نے واضح کیا ہے کہ یہ سہولت محدود مدت کے لیے ہے اور اس کا مقصد ان افراد کو قومی شناختی نظام میں شامل کرنا ہے جو اب تک رجسٹریشن سے محروم ہیں۔ ساتھ ہی شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اندراج کے وقت اپنی معلومات کی درستگی کو یقینی بنائیں کیونکہ ایک بار درج شدہ تفصیلات بعد میں تبدیل نہیں کی جا سکیں گی۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close