امریکا نے ضبط شدہ ایرانی بحری جہاز کے ارکان پاکستان منتقل کر دیے، پاکستانی دفتر خارجہ کی تصدیق

امریکا نے ضبط شدہ ایرانی بحری جہاز توسکا کے 22 ارکان کو پاکستان منتقل کر دیا ہے، پاکستانی دفتر خارجہ نے تصدیق کر دی۔

 

امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان نے کہا ہے کہ جس ایرانی جہاز کو امریکا نے اُس وقت قبضے میں لیا تھا جب اس نے امریکی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کی تھی، اسے اب اس کے عملے سمیت پاکستان منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ اسے ایران واپس بھیجا جا سکے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے کہا ’’آج امریکی افواج نے جہاز ایم وی توسکا کے 22 رکنی عملے کو پاکستان منتقل کرنے کا عمل مکمل کر لیا گیا تاکہ انھیں وطن واپس بھیجا جا سکے، 6 دیگر مسافر پہلے ہی گزشتہ ہفتے ایک علاقائی ملک منتقل کیے جا چکے تھے تاکہ انھیں بھی واپس بھیجا جا سکے۔‘‘ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق یہ چھ افراد عملے کے بعض ارکان کے اہل خانہ تھے۔ ہاکنز نے کہا کہ جہاز توسکا کی تحویل اس کے اصل مالکوں کو واپس دی جا رہی ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ 19 اپریل کو جب جہاز کے عملے نے امریکی بحری جہازوں کی چھ گھنٹے تک دی گئی وارننگز کو نظر انداز کیا تو ایک امریکی ڈسٹرائر نے کنٹینر شپ کے انجن روم پر کئی فائر کیے۔ بعد ازاں امریکی میرینز نے جہاز پر چڑھائی کر کے اسے قبضے میں لے لیا۔

دفتر خارجہ پاکستان


ترجمان دفتر خارجہ نے تصدیق کر دی ہے کہ امریکا کے اعتماد سازی اقدام کے تحت ایرانی جہاز کے 22 ارکان پاکستان منتقل ہو گئے ہیں، ایرانی عملے کو آج ایرانی حکام کے حوالے کر دیا جائے گا۔

ترجمان نے کہا ایرانی جہاز کی مرمت کے بعد پاکستانی حدود میں لا کر مالکان کے حوالے کیا جائے گا، عملے اور جہاز کی واپسی ایران اور امریکا کے تعاون سے کی جا رہی ہے، پاکستان اعتماد سازی کے ایسے تمام اقدامات کا خیر مقدم کرتا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں امن کے لیے مکالمے، سفارت کاری اور ثالثی کی کوششیں جاری رکھے گا۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close