درجہ حرارت میں اضافے کے باعث برف کے تیزی سے پگھلنے کا عمل جاری ہے، جس کے نتیجے میں دریاؤں اور ندی نالوں کے بہاؤ میں اچانک اتار چڑھاؤ کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ اسی تناظر میں آج دوپہر بارہ سے ایک بجے کے درمیان چکوتھی کے مقام پر دریا کے بہاؤ میں اچانک اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی ممکنہ وجہ اوڑی کے مقام پر مقبوضہ کشمیر میں واقع اسپل ویز اور ریزروائرز کو بھارت کی جانب سے کھولنا ہو سکتی ہے۔
اس اچانک پانی کے اخراج کے نتیجے میں ایک سے دو بجے کے درمیان دریا میں شدید طغیانی آئی، جس کے باعث ٹنڈالی کے مقام پر دریا میں مچھلیاں پکڑنے والے دو افراد دریا میں پھنس گئے۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے نہایت مشکل ریسکیو آپریشن کے ذریعے دونوں افراد کو بحفاظت دریا سے نکال کر ان کی جان بچائی اور بعد ازاں انہیں پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔
اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی / ریسکیو 1122 سعیدالرحمان قریشی نے شہریوں سے پرزور اپیل کی کہ موجودہ موسم میں، جب برف کا پگھلاؤ تیزی سے جاری ہے اور درجہ حرارت میں غیر معمولی تغیر و تبدل دیکھنے میں آ رہا ہے، دریاؤں اور ندی نالوں میں اچانک طغیانی کا شدید خطرہ موجود رہتا ہے۔ انہوں نے شہریوں کو خصوصاً دریاؤں کے قریب جانے، مچھلی پکڑنے اور غیر ضروری سرگرمیوں سے اجتناب کرنے کی تلقین کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہریوں کے تعاون کے بغیر اداروں کے لیے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا مشکل ہو جاتا ہے۔ آئندہ دنوں میں ممکنہ بارشوں اور موسمی تغیر کے پیش نظر عوام سے گزارش ہے کہ وہ متعلقہ محکموں کی جانب سے جاری کردہ حفاظتی و احتیاطی ہدایات پر نہایت سنجیدگی سے عمل کریں اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کریں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






