ایران نے امریکا کے سامنےآبنائے ہرمز کھولنے کے بدلے بڑی پیشکش کر دی

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ایران کی نئی تجاویز کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایران نے امریکا کو پیشکش کی ہے کہ حملے روکنے کی ضمانت اور محاصرہ ختم کرنے کے بدلے آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی۔ ایران کا کہنا ہے کہ جوہری پروگرام پر بات چیت بعد میں کی جا سکتی ہے، جبکہ فوری طور پر پابندیوں میں نرمی کی ضرورت ہے۔ ایران نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ اگر امریکا کھلے ذہن کے ساتھ نئی پیشکش پر غور کرے تو وہ اسی ہفتے مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان تجاویز پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں یقین نہیں کہ کسی معاہدے تک پہنچا جا سکے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کو اپنا دھمکی آمیز لہجہ اور توسیع پسندانہ رویہ تبدیل کرنا ہوگا، جبکہ جنگ کے خاتمے سے متعلق نئی تجاویز پاکستان کے ذریعے دی گئی ہیں۔

عباس عراقچی نے سعودی عرب، قطر، ترکیہ، مصر، عراق اور آذر بائیجان کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک رابطوں میں کہا کہ ایران سفارتکاری کا راستہ کھلا رکھنے کے لیے تیار ہے اور مذاکرات میں پاکستان باضابطہ ثالث کا کردار ادا کرے گا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ایران نے امریکا سے مذاکرات کے لیے نئی تجاویز پاکستان کے حوالے کر دی ہیں۔

واضح رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی 24 اپریل کو وفد کے ہمراہ دو روزہ دورے پر پاکستان آئے تھے جہاں مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دورہ مکمل کرنے کے بعد وہ عمان گئے جہاں قیادت سے ملاقاتیں کیں، جس کے بعد وہ روس روانہ ہوئے اور وہاں روسی صدر سے بھی ملاقات کی۔

ادھر 24 اپریل کو ایرانی وفد کے پاکستان سے روانہ ہونے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے امریکی وفد کے مجوزہ دورے کی منسوخی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ آئندہ مذاکرات فون پر بھی ہو سکتے ہیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close