ایران نے امریکا کی جانب سے دباؤ بڑھانے کی دھمکیوں کے بعد امریکا کے حمایتی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر اُنہوں نے واشنگٹن کا ساتھ دیا تو انہیں سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایرانی نائب صدر اسماعیل سقاب اصفہانی نے کہا ہے کہ اگر ایران کے تیل کے کنوؤں یا بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا تو جواب میں 1 کے بدلے 4 گنا نقصان کیا جائے گا۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مسلسل دباؤ کے باعث ایران کی تیل کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے اور اس کی معیشت شدید بحران کا شکار ہے۔
ادھر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے پاس تیل کی رسد روکنے کے کئی ’کارڈز‘ موجود ہیں جن میں آبنائے ہرمز اور دیگر راستے شامل ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ راستے بند ہوئے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ جائیں گی، خاص طور پر گرمیوں میں جب طلب زیادہ ہوتی ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






