بھارت کے شہر پونے کے ہوائی اڈے پر فضائیہ کے ایک طیارے کی ہنگامی لینڈنگ کے باعث رن وے عارضی طور پر بند ہو گیا، جس کے نتیجے میں آنے اور جانے والی پروازوں کا نظام شدید متاثر ہوا، تاہم حکام کے مطابق تمام عملہ محفوظ رہا۔
بھارتی اخبار انڈیا ٹو ڈے کے مطابق یہ واقعہ ایک جنگی طیارے کی معمول کی رات کی پرواز کے دوران پیش آیا۔ بھارتی فضائیہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ صورتحال کے باوجود عملہ مکمل طور پر محفوظ رہا اور کسی شہری املاک کو نقصان نہیں پہنچا۔
بعد ازاں بھارتی فضائیہ نے بتایا کہ رن وے کو دوبارہ بحال کر دیا گیا ہے اور تمام حفاظتی معائنے مکمل ہونے کے بعد اسے استعمال کے قابل قرار دے دیا گیا ہے، جبکہ پروازوں کی بحالی مرحلہ وار جاری ہے۔
ہوائی اڈے اور پولیس ذرائع کے مطابق طیارے کی لینڈنگ کے دوران اس کے پہیوں کے نظام میں خرابی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جس کے باعث طیارہ رن وے پر رک گیا اور آمد و رفت کا راستہ بند ہو گیا، تاہم اس حوالے سے حتمی تکنیکی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
حکام کے مطابق یہ واقعہ رات تقریباً 10 بج کر 25 منٹ پر پیش آیا، جس کے بعد احتیاطی اقدامات کے تحت فوری طور پر فضائی آمد و رفت معطل کر دی گئی۔
پونے کا ہوائی اڈہ شہری اور فوجی دونوں مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے اور یہاں بھارتی فضائیہ کا اڈہ بھی موجود ہے، جس کے باعث اس واقعے کے بعد تجارتی پروازوں کا نظام بھی متاثر ہوا۔
فضائی ٹریفک حکام کے مطابق رن وے کی صفائی اور معمول کی سرگرمیوں کی بحالی میں تقریباً 4 سے 6 گھنٹے لگے، اس دوران ایئر لائنز کو صورتحال سے آگاہ رکھا گیا اور پروازوں کے شیڈول میں تبدیلیاں کی گئیں۔
بھارت کے وزیر مملکت برائے ہوا بازی مرلی دھر موہول نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسافروں کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا اور حکام جلد از جلد معمول کی صورتحال بحال کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
رن وے بند ہونے کے باعث 17 اور 18 اپریل کو پروازوں کا نظام بری طرح متاثر ہوا اور مختلف ایئر لائنز کی متعدد پروازیں منسوخ ہوئیں، جن میں سب سے زیادہ منسوخیاں انڈیگو کی رہیں جس کی 31 آمد اور 34 روانگی کی پروازیں متاثر ہوئیں۔ اس کے علاوہ دیگر ایئر لائنز کی پروازیں بھی منسوخ یا تاخیر کا شکار ہوئیں۔
ایئر لائنز نے مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہوائی اڈے پر آنے سے قبل اپنی پرواز کی صورتحال ضرور چیک کریں، جبکہ متاثرہ مسافروں کو متبادل پرواز یا مکمل رقم واپسی کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






