آبی راستے کی بحالی کے بعد حصص بازاروں میں تیزی دیکھی گئی ہے جبکہ عالمی تیل منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اتار چڑھاؤ سامنے آیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امن معاہدہ بہت قریب ہے اور ایران اپنا افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کرنے پر رضامند ہو گیا ہے، جو مذاکرات میں ایک اہم رکاوٹ سمجھا جا رہا تھا۔ تاہم ایران نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا افزودہ یورینیم کا ذخیرہ کہیں منتقل نہیں کیا جائے گا۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی جنگی بحری جہازوں نے ایرانی بندرگاہوں سے جانے والے بحری جہازوں کو روکا تو آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کیا جا سکتا ہے۔
ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے ایکس پر لکھا کہ اگر ناکہ بندی جاری رہی تو آبنائے ہرمز کھلی نہیں رہے گی اور اس آبی گزرگاہ سے گزرنے کے لیے ایران سے اجازت لینا ضروری ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر نے ایک گھنٹے میں متعدد دعوے کیے جو ان کے مطابق درست نہیں تھے، اور ان دعوؤں سے نہ جنگ جیتی جا سکتی ہے اور نہ ہی مذاکرات میں کوئی فائدہ حاصل ہوگا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کا کھلنا اور بند ہونا آن لائن دعوؤں سے نہیں بلکہ عملی میدان میں طے ہوتا ہے، اور ایران کی مسلح افواج صورتحال کے مطابق ردعمل دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی بحری ناکہ بندی کا ایران کی جانب سے مناسب جواب دیا جائے گا اور اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔
ایرانی وزارت دفاع کے مطابق آبنائے ہرمز میں آمدورفت حملے نہ کرنے سے مشروط ہے اور اس اہم تجارتی راستے تک رسائی کا انحصار موجودہ جنگ بندی کی صورتحال پر ہے۔
وزارت دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل رضا طلائی نیک نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز صرف جنگ بندی کی صورت میں کھلی رہے گی اور دشمن قوتوں یا ان سے وابستہ بحری جہازوں کو اس گزرگاہ سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال عارضی ہے اور اگر زمینی حالات میں تبدیلی آتی ہے تو اس آبی گزرگاہ کی بندش کا امکان بھی موجود ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






