سرکاری اداروں کے اکاؤنٹس سے متعلق ہوشربا انکشافات سامنے آگئے

سرکاری ملکیتی اداروں کے 1 ہزار ارب روپے سنگل ٹریژی اکاؤنٹ سے باہر ہونے کا انکشاف سامنے آیا، کمیٹی ارکان نے اسے قومی خزانے کے ساتھ سنگین مذاق قرار دے دیا۔

 

تفصیلات کے مطابق سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرِ صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔

وزارتِ خزانہ اور کمیٹی ارکان نے بتایا ہے کہ سرکاری ملکیتی ادارے قومی خزانے کے اربوں روپے اپنے ذاتی اکاؤنٹس میں رکھ کر منافع کما رہے ہیں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف ہوا کہ سرکاری اداروں کے 1 ہزار ارب روپے ‘سنگل ٹریژری اکاؤنٹ’ (STA) میں ہونے کے بجائے اداروں کے اپنے نجی اکاؤنٹس میں پڑے ہیں۔

سینیٹر انوشہ رحمان نے دعویٰ کیا کہ مجموعی طور پر سرکاری اداروں کے 2 ہزار ارب روپے حکومت کے کنٹرول سے باہر ہیں۔

انہوں نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “ریاستی ادارے سرکار کے پیسے پر ہی حکومت سے منافع لے کر خود کھا رہے ہیں۔”

کمیٹی ارکان نے افسوس کا اظہار کیا کہ ایک طرف حکومت کو معمولی قرضوں کے لیے “دربدر کی ٹھوکریں” کھانی پڑتی ہیں، جبکہ دوسری طرف سرکاری اداروں نے ہزاروں ارب روپے چھپا رکھے ہیں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ قواعد کے مطابق تمام سرکاری اداروں کو اپنے فنڈز ‘سنگل ٹریژری اکاؤنٹ’ میں رکھنے پابند کیا گیا تھا، تاکہ حکومت کی مالی پوزیشن مستحکم ہو سکے، لیکن اداروں نے اس کے بجائے نجی بینکوں میں اپنے اکاؤنٹس کھول رکھے ہیں۔

کمیٹی ارکان نے اسے قومی خزانے کے ساتھ سنگین مذاق قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ادارے حکومت کے پیسے پر ہی منافع کما کر اپنے انتظامی اخراجات پورے کر رہے ہیں، جو کہ مالی بدانتظامی کی بدترین مثال ہے۔ کمیٹی نے اس معاملے پر وزارتِ خزانہ سے مکمل رپورٹ طلب کر لی ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close