اسلام آباد مذاکرات کامیاب یا ناکام؟ سفارتی حلقوں کی اہم رائے سامنے آگئی
امریکہ اور ایران کے مذاکرات کاروں کی اسلام آباد سے واپسی کے بعد سے یہ سوال زیر بحث ہے کہ مذاکرات کامیاب رہے یا ناکام کیونکہ فریقین نے انہیں بے نتیجہ بتایا اور ایران کے مذاکرات کار باقر قالیباف نے واضح الفاظ میں کہا کہ ایران نے امریکہ پر اعتماد نہیں کیا۔ اس ضمن میں اسلام آباد میں موجود سفارتی حلقہ میں عمومی رائے یہ ہے کہ مذاکرات اہم پیش رفت ہیں اور یہ کامیابی نہیں تو کامیابی کا پیش خیمہ بہرحال ہیں۔ سفارتی حلقے اسلام آباد مذاکرات کو جنگ بندی کے ضمن میں پہلا بریک تھرو مان رہے ہیں اور یہ بھی مان رہے ہیں کہ چیلنجز بدستور موجود ہیں۔ سرسری جائزہ سے یہ سامنے آ رہا ہے کہ اب کئی دوسرے ملک بھی بیک ڈور ڈپلومیسی میں شریک ہونے جا رہے ہیں۔ مذاکرات کے لئے امریکہ اور ایران پر دباؤ ڈالنے کے لئے دیگر ممالک کی شرکت کا امکان الگ سے ایک امید افزا ڈیویلپمنٹ ہے جس کا کریڈٹ مذاکرات کا آغاز کروانے والے پاکستان کے پرائم منسٹر کو ہی جائے گا۔ سفارتی ذرائع نے الساسلام آباد میں 21 گھنٹے کے میراتھن مذاکرات کو امید کی کرن بتاتے ہوئے کہا، اگر یہی رفتار برقرار رہی تو یہ مذاکرات خطے میں بڑی اور مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ آج اتوار کی صبح اسلام آباد سے متحارب مذاکرات کاروں کی واپسی کے بعد سے یہ سوال شدت سے زیر بحث ہے کہ آیا یہ مذاکرات کامیاب رہے یا نہیں۔ مروج طریقہ کار کے مطابق ان میراتھن مذاکرات کے رسمی اختتام کے اعلان کے ساتھ کم از کم اتفاق راے یا اختلافات کے متعلق کوئی مشترکہ سٹیٹمنٹ سامنے نہیں لائی گئی۔ حتیٰ کہ فریقین کی طرف سے اب تک رسماً یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ مذاکرات کن نکات پر ہوئے اور کس نکتہ پر فریقین کی کیا پوزیشن رہی۔ اس کے باوجود سفارتی حلقہ میں انہیں مکمل ناکامی کے بجائے کونفلکٹ کے خاتمہ کے لئے اہم پیش رفت اور امید افزا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ان مذاکرات کی سب سے بڑی کامیابی امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہے، جو کسی بھی جنگ میں تنازعہ کے حل کے لئے بڑی چھلانگ سمجھا جاتا ہے، دونوں دیرینہ حریفوں کا توپوں کے دہانے بند کر کے مذاکرات کی میز پر بیٹھنا خود ایک بڑی سفارتی پیش رفت ہے، جسے عالمی سطح پر مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔ سفارتی حلقوں میں پاکستان کی ثالثی کو جنگ بندی اور مذاکرات میں اب تک سامنے آئی پیش رفت کو یقینی بنانے والا کلیدی فیکٹر مانا جا رہا ہے اور اسے سراہا جا رہا ہے۔ پاکستان کی کئی سطحوں اور کئی دائروں میں ہونے والی امن کی کوششیں محض 24 سے 31 گھنٹوں میں مکمل ہوئیں، جو اس بات کی نشان دہی ہے کہ پیچیدہ تنازعات کے باوجود پیش رفت ممکن ہے، یہ پیش رفت ابتدائی نوعیت کی ہے اور پیچیدہ چیلنج ہنوز برقرارہیں، اس تنازعہ کی نوعیت نہایت پیچیدہ اور گہری ہے، جس میں باہمی اختلافات کے ساتھ بیرونی عوامل بھی شامل ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






