دفتر خارجہ کے مطابق امریکا کے وفد میں نائب صدر جے ڈی وینس، جیرڈ کشنر اور سٹیو وٹکوف شامل ہیں، جبکہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے مہمانوں کا استقبال کیا۔ اس موقع پر امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر بھی موجود تھیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا خیرمقدم کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے پائیدار علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے حصول کے لیے امریکا کی وابستگی کو سراہا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام فریقین تعمیری انداز میں بات چیت کریں گے اور اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان تنازع کے پائیدار اور دیرپا حل کے لیے فریقین کے درمیان سہولت کاری جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔
اس سے قبل ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے اسلام آباد روانہ ہونے والے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے طیارے نے فرانس میں قیام کیا، جہاں پیرس میں طیارے میں ایندھن بھرائی کے بعد اسے اسلام آباد کے لیے دوبارہ روانہ کیا گیا۔
خیال رہے کہ امریکا سے مذاکرات کے لیے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد پہلے ہی اسلام آباد پہنچ چکا ہے۔ اس وفد میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی، دفاعی کونسل کے سیکرٹری، مرکزی بینک کے گورنر اور پارلیمنٹ کے دیگر ارکان بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب پاکستان کے لیے روانگی سے قبل ایئرپورٹ پر گفتگو کرتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ تعمیری گفتگو کے خواہاں ہیں اور امریکی صدر ٹرمپ کی گائیڈلائن کے تحت مذاکرات میں حصہ لے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات مثبت رہیں گے۔
ایرانی وفد کے سربراہ باقر قالیباف نے کہا کہ اگر امریکا حقیقی ڈیل لاتا ہے تو معاہدہ ممکن ہے، تاہم ماضی میں امریکا سے مذاکرات میں وعدہ خلافی سامنے آ چکی ہے۔ ان کے مطابق ایران اچھی امید کے ساتھ مذاکرات کے لیے آیا ہے اور اگر امریکا ایران کے حقوق تسلیم کرتا ہے تو معاہدے تک پہنچنے کے لیے تیار ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






