اسلام آباد: آئی ایم ایف نے پیٹرولیم مصنوعات اور سولر سسٹم پر 18 فیصد جی ایس ٹی لگانے کا مطالبہ کردیا جس کے بعد پیٹرولیم مصنوعات اور سولر سسٹم مزید مہنگا ہونے کا خدشہ ہے،
آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں16سو ارب روپے سے زائد اضافے کے ساتھ ٹیکس وصولیوں کا ہدف 15 ہزار 600 ارب روپے سے زائد رکھنے کی تجویز دیدی۔ ایف بی آر کے ذرائع نے بتایا ہے کہ آئی ایم ایف نے حکومت سے کئی مطالبات کردیئے ہیں جس کے تحت اگلے مالی سال ٹیکس ہدف میں 16سو ارب روپے سے زائد اضافے کی تجویز دے دی ہے۔ آئی ایم ایف نے پیٹرول سمیت ایندھن پر 18 فیصد جی ایس ٹی لگانے کا مطالبہ کیا ہے، اس وقت پیٹرولیم مصنوعات پر جی ایس ٹی کی شرح صفر ہے،
اسی طرح آئی ایم ایف نے سولر صارفین پر بھی 18 فیصد ٹیکس عائد کرنے پر زور دیا ہے اور نئے گھروں پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔آئی ایم ایف نے چھوٹے کاروبار اور تاجروں پر اثاثوں کی بنیاد پر ٹیکس لگانے اور نئے بجٹ میں ٹیکس ہدف 15 ہزار 600 ارب روپے سے زائد رکھنے کی تجویز دی ہے جبکہ رواں سال 14 ہزار 131 ارب کا ہدف کم کرکے 13 ہزار 979 ارب رکھا گیا تھا، ہدف میں 152 ارب کمی کے باوجود 8 ماہ میں 428 ارب روپے شارٹ فال ہوا۔حکام ایف بی آر کے مطابق مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں ٹیکس وصولی میں کمی 600 ارب سے بڑھنے کا خدشہ ہے اور رواں ماہ(مارچ)میں اب تک 865 ارب سے زائد کی وصولی، ہدف 1367 ارب ہے،
جنگ کے باعث درآمدات متاثر، مہنگے تیل سے کاروباری سرگرمیوں میں کمی وجہ قرار دیا گیاہے۔ایف بی آر سپر ٹیکس اور سرچارج کی وصولی سے خسارہ پورا ہونے کے لیے پرامید ہے جبکہ حکام وزارت خزانہ نے کہا کہ نئے بجٹ سے پہلے آئی ایم ایف سے مزید بات چیت ہوگی۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






