ایلون مسک نے پیشگوئی کی ہے کہ مصنوعی ذہانت بہت جلد انسانوں سے زیادہ ذہین ہو جائے گی۔
ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا کہ ممکن ہے آئندہ 3 سال میں اے آئی ٹیکنالوجی ذہانت میں انسانوں کو پیچھے چھوڑ دے، اور یہ اندازہ حقیقت کے قریب لگتا ہے۔
اس سے قبل وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ آرٹیفیشل جنرل انٹیلی جنس سن 2026 تک سامنے آ سکتی ہے، جبکہ 2029 سے 2030 تک اے آئی تمام انسانوں کی مجموعی ذہانت سے بھی آگے نکل سکتی ہے۔
ایلون مسک نے خبردار کیا کہ اس تیز رفتار ترقی کے باعث ہمیں ٹیکنالوجی کے ممکنہ منفی اثرات کے حوالے سے محتاط رہنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اے آئی کو اس طرح تربیت دینا ضروری ہے کہ وہ سچ بولے اور مثبت انداز میں انسانیت کی خدمت کرے۔
انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ اگر ممکن ہو تو وہ اے آئی کی ترقی کو سست کرنا پسند کریں گے، کیونکہ پہلی بار انسانوں کو اپنے سے زیادہ ذہین مخلوق کا سامنا ہو سکتا ہے، جو انسانی مستقبل کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






