ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے پاکستان کو بڑی پیشکش کردی

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ دشمن نے ایران کی طاقت اور عوام کے ردعمل کا غلط اندازہ لگایا تھا۔

نئے ایرانی سال کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو توقع تھی کہ چند روزہ حملوں کے بعد ایران میں نظام کمزور ہو جائے گا، مگر ایسا نہیں ہوا اور ان کے اندازے غلط ثابت ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ دشمن یہ سمجھ رہا تھا کہ قیادت اور اہم فوجی شخصیات کو نشانہ بنا کر ایرانی عوام میں خوف پیدا کیا جا سکے گا، تاہم اس کے برعکس ایرانی قوم نے غیر معمولی اتحاد کا مظاہرہ کیا۔

مجتبیٰ خامنہ ای کے مطابق ایران کے اندر مذہبی، سیاسی اور ثقافتی اختلافات کے باوجود عوام نے یکجہتی دکھائی جبکہ مخالف قوتوں کے درمیان اختلافات سامنے آئے۔

ایرانی سپریم لیڈر نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہتر تعلقات کے لیے ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ ایران خطے میں برادر اسلامی ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات کا خواہاں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ترکیے اور عمان پر حملوں میں ایران ملوث نہیں بلکہ یہ ایک سازش تھی، اور خبردار کیا کہ اس نوعیت کے واقعات دیگر ممالک میں بھی ہو سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام کا اتحاد دشمن کو پسپا کرنے کے لیے کافی ہے اور یہی طاقت ایران کی اصل قوت ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close