امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا نے ایران کے خلاف ایک بڑا فوجی آپریشن شروع کر دیا ہے اور اس کارروائی کا مقصد ایران کی بحری اور میزائل صلاحیتوں کو ختم کرنا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ اقدام ایرانی حکومت کی جانب سے لاحق خطرات کے خاتمے اور امریکی عوام کے تحفظ کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ ان کے مطابق ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے اور امریکا اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل تیار کر رہا ہے جو امریکا اور دیگر ممالک کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، اسی لیے ایرانی میزائل پروگرام اور اس سے وابستہ تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ خطے میں موجود امریکی اہلکاروں کے تحفظ کے لیے پیشگی اقدامات کیے گئے ہیں، تاہم کسی بھی کارروائی میں جانی نقصان کا خدشہ موجود رہتا ہے۔ انہوں نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کو ہتھیار ڈالنے کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ سرنڈر کی صورت میں بہتر سلوک کیا جائے گا، بصورتِ دیگر سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی کے بعد تہران میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق دارالحکومت کے مختلف علاقوں، بشمول یونیورسٹی اسٹریٹ اور جمہوریہ ایریا، میں میزائل گرنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ شہر کے مختلف حصوں سے دھوئیں کے گہرے بادل اٹھتے دیکھے گئے اور خوف و ہراس کی فضا قائم ہو گئی۔
یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان یورینیئم کی افزودگی کے معاملے پر کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا، اور صدر ٹرمپ ایرانی مؤقف پر عدم اطمینان کا اظہار کر چکے تھے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






