ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف ایک اور عدالتی فیصلہ

امریکا میں ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف ایک اور عدالتی فیصلہ آ گیا، وفاقی جج نے غیر قانونی تارکین وطن کی بے دخلی روک دی۔

تفصیلات کے مطابق امریکی وفاقی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کی غیر قانونی تارکین وطن کی بے دخلی کے خلاف عدالتی حکم جاری کر دیا، جس میں ٹرمپ انتظامیہ کو تیسرے ملک میں ڈی پورٹیشن سے روک دیا گیا۔

ڈسٹرکٹ جج برائن مرفی نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بغیر پیشگی اطلاع کسی تیسرے ملک بھیجنا غیر قانونی ہے۔ فیصلے کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ 15 روز کے اندر اپیل کر سکتی ہے۔

اپنے 81 صفحات پر مشتمل فیصلے میں جج مرفی نے لکھا کہ محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی پالیسی امیگریشن قوانین اور قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں تھی۔

محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے پہلے دلیل دی تھی کہ اگر یہ معلوم ہو کہ فرد کو پہنچنے پر فوری خطرہ نہیں، تو تیسرے ملک میں بے دخلی جائز ہے، لیکن جج نے کہا: “یہ جائز نہیں، اور نہ ہی قانونی ہے۔”

جج نے پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض غیر واضح ضمانتوں پر مبنی ہے کہ کہیں کسی قسم کا ظلم یا اذیت نہ ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ کانگریس نے یہ پالیسی منظور کی ہے کہ کسی بھی شخص کو ایسے ملک میں بے دخل نہ کیا جائے جہاں اس کی جان یا سلامتی خطرے میں ہو۔

جج مرفی، جو صدر جو بائیڈن کے تقرر سے جج بنے ہیں، نے پہلے بھی جنوبی سوڈان میں تارکین وطن کی بے دخلی روکنے کی کوشش کی تھی لیکن گزشتہ جون میں امریکی سپریم کورٹ نے اس پر روک نہیں لگائی تھی۔

ٹرمپ انتظامیہ نے اس پالیسی کو ضروری قرار دیا ہے اور ٹرمپ نے دوبارہ صدارت سنبھالنے کے بعد بے دخلی کی رفتار بڑھانے کے متعدد اقدامات بھی کیے ہیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close