وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلوں کی منظوری دے دی گئی۔
کابینہ اجلاس کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اسپتالوں میں عملے کی کمی پوری کرنے کے لیے 4 ارب 6 کروڑ روپے سے زائد کے فنڈز منظور کیے گئے۔ ان فنڈز سے فکسڈ پے پر 2439 ڈاکٹرز، ڈینٹل سرجنز اور نرسز کی بھرتی کی جائے گی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بھیک مانگنے کے خاتمے اور بچوں کے تحفظ کے لیے خصوصی بحالی فنڈ قائم کیا جائے گا۔ وہیٹ پروکیورمنٹ اینڈ اسٹریٹجک ریزروز ہائبرڈ پالیسی 2026 اور گندم خریداری کے 38 ارب روپے سے زائد واجبات وفاق سے ایڈجسٹ کرنے اور بقایا رقم پاسکو کو ادا کرنے کی منظوری دی گئی۔
کابینہ نے درج ذیل امور کی بھی منظوری دی:
– اقلیتی طلبہ کے لیے لیپ ٹاپ فراہمی کے لیے 19 کروڑ 60 لاکھ روپے کی گرانٹ
– کام کی جگہ پر خواتین کو ہراسانی سے تحفظ کے قانون 2010 میں ترامیم
– پانچ ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں بریسٹ اسکریننگ سینٹرز کا قیام
– اپر چترال میں نرسنگ کالج کے لیے 15 کنال اراضی محکمہ صحت کو منتقل کرنے کا فیصلہ
– لکی مروت ویمن اینڈ چلڈرن ہسپتال منصوبے کی لاگت میں اضافے کی منظوری
– کوہاٹ روڈ پر لیڈیز اینڈ چلڈرن پارک کے لیے اراضی فراہمی کی منظوری
– پشاور تا ڈی آئی خان موٹروے کے لیے اراضی خریداری کی لاگت کی منظوری
مزید برآں، کابینہ اجلاس میں ضلع ہنگو جوڈیشل کمپلیکس کی توسیع کے لیے 29 کنال 9 مرلہ سرکاری اراضی منتقل کرنے کا فیصلہ، ضلع خیبر میں تیراہ ماڈل کے تحت 6505 متاثرہ خاندانوں کے لیے مالی امدادی پیکج اور پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ کے لیے نجی شعبے کے نمائندے کی نامزدگی بھی منظور کر لی گئی۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






