پاکستان کے درآمدی بل میں 6.5 ارب ڈالر کی بچت,انڈس موٹرز کا دعویٰ:

اسلام آباد: انڈس موٹر کمپنی نے آٹو سیکٹر میں ملکی درآمدی بل میں ساڑھے 6 ارب ڈالر کی بچت اور درآمدی متبادل فراہم کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر علی اصغر جمالی نے کہا ہے کہ کمپنی اپنے قیام سے اب تک پاکستان کے درآمدی بل میں مجموعی طور پر 6.5 ارب ڈالر کی بچت اور درآمدی متبادل فراہم کر چکی ہے جبکہ مختلف ماڈلز میں 65 فیصد تک لوکلائزیشن حاصل کی جا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اسٹیل، ریزن، کاپر اور ایلومینیم جیسے بنیادی خام مال کی مقامی دستیابی محدود ہونے کے باوجود یہ کامیابی قابل ذکر ہے کیونکہ مقامی صنعت کو موجودہ چیلنجز کے باوجود زیادہ سے زیادہ ویلیو ایڈیشن یقینی بنانا پڑتا ہے۔

علی اصغر جمالی نے کہا کہ لوکلائزیشن صرف پرزہ جات کی مقامی تیاری تک محدود نہیں بلکہ قومی صلاحیت کی تعمیر کا عمل بھی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کمپنی 1992 سے پاکستان کے صنعتی نظام کا حصہ ہے اور گزشتہ 35 برسوں میں گاڑیوں کی تیاری کے ساتھ ساتھ مہارتوں، سپلائرز اور ٹیکنالوجی کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ کمپنی نے تین دہائیوں کے دوران بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ 30 سے زائد تکنیکی معاونت اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر معاہدے کیے ہیں جن کے ذریعے جدید پیداواری طریقہ کار پاکستان منتقل کیے گئے اور پیچیدہ پرزہ جات کی مقامی سطح پر تیاری ممکن ہوئی جس سے درآمدات پر انحصار کم ہوا۔

اس حکمت عملی کے نتیجے میں ملک بھر میں وینڈر نیٹ ورک کو فروغ ملا اور اس وقت انڈس موٹر کمپنی 53 سپلائرز کے ساتھ کام کر رہی ہے جن میں سے کئی چھوٹے یونٹس ترقی کر کے مستحکم مینوفیکچرنگ ادارے بن چکے ہیں۔ یہ سپلائی چین بالائی اور زیریں صنعتوں کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ ڈسٹری بیوشن اور سروس نیٹ ورکس کو بھی سہارا فراہم کر رہی ہے۔

گزشتہ 35 برسوں کے دوران کمپنی کے صنعتی ماحولیاتی نظام سے 55 ہزار سے زائد روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں جن میں براہ راست ملازمتوں کے علاوہ وینڈرز، ڈیلرشپس اور دیگر شعبوں میں روزگار کے امکانات شامل ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ آٹو موبائل سیکٹر میں لوکلائزیشن کی پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اگر ملک میں بنیادی خام مال کی صنعتوں کو فروغ دیا جائے تو مزید گہری لوکلائزیشن، درآمدی انحصار میں کمی اور تیز صنعتی ترقی ممکن ہو سکتی ہے۔ کمپنی کے سی ای او کے مطابق مسلسل سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی پیداوار کا فروغ نہ صرف گاڑیوں کی تیاری میں مدد دیتا ہے بلکہ ملکی معیشت کی بنیادوں کو بھی مضبوط بناتا ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close