خوفناک ڈرون حملہ

یوکرین نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے رات بھر جاری رہنے والی کارروائی میں روس کے کراسنودار اور یاروسلاول علاقوں میں واقع دو آئل ریفائنریوں کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔

 

یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اتوار کو سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ان کارروائیوں کا مقصد روس کی جنگی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔ ان کے مطابق حملوں میں نشانہ بنائی گئی ریفائنریاں یوکرین کی سرحد سے تقریباً 300 اور 700 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں۔

 

ادھر روسی حکام کے مطابق کراسنودار کے شہر سلاویانسک نا کوبانی میں واقع آئل ریفائنری میں حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، جبکہ قریبی گاؤں میں ایک شخص ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ ویڈیوز میں ریفائنری میں بڑے پیمانے پر آگ دیکھی جا سکتی ہے۔

 

سلاویانسک آئل ریفائنری کی یومیہ پیداواری صلاحیت تقریباً ایک لاکھ بیرل بتائی جاتی ہے، جہاں تیار ہونے والا ایندھن ملکی استعمال کے ساتھ ساتھ برآمد بھی کیا جاتا ہے۔

دوسری جانب یاروسلاول کے گورنر نے بھی ڈرون حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ماسکو جانے والی بعض شاہراہوں پر عارضی طور پر آمدورفت محدود کر دی گئی ہے۔

 

رائٹرز کے مطابق یوکرین حالیہ مہینوں میں روس کی تیل اور ایندھن سے متعلق تنصیبات پر ڈرون حملوں میں اضافہ کر رہا ہے، جس کے باعث روس کے بعض علاقوں میں ایندھن کی فراہمی متاثر ہونے اور پیٹرول پمپوں پر قلت کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close