کراچی: سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیرِ ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کسی بھی لرنر لائسنس رکھنے والی خاتون کو پنک اسکوٹی نہیں دی جائے گی، بلکہ صرف پکا ڈرائیونگ لائسنس رکھنے اور ٹیسٹ پاس کرنے والی خواتین ہی اسکوٹی حاصل کرسکیں گی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام نے ملک بھر کی خواتین کو بااختیار بنایا اور غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے والے خاندانوں کی نشاندہی کی۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایات کی روشنی میں سندھ حکومت خواتین کو خودمختار بنانے کے لیے انقلابی اقدامات کر رہی ہے۔
شرجیل میمن نے بتایا کہ جب الیکٹرک اسکوٹی اسکیم شروع کی گئی تو پورے سندھ میں صرف 154 خواتین کے پاس ڈرائیونگ لائسنس تھا، جبکہ اب 50 ہزار سے زائد خواتین ڈرائیونگ لائسنس کے لیے درخواست دے چکی ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ اگر 50 ہزار خواتین کو بھی الیکٹرک اسکوٹیاں دینی پڑیں تو سندھ حکومت دے گی، تاہم اسکوٹی صرف پکا لائسنس رکھنے اور ڈرائیونگ ٹیسٹ پاس کرنے والی خواتین کو دی جائے گی، لرنر لائسنس رکھنے والی خواتین کو نہیں۔
انہوں نے سختی سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ پنک اسکوٹی پر رنگ چڑھا کر مردوں کے استعمال کرنے کی شکایات موصول ہوئی ہیں، اس حوالے سے جلد سرپرائز چیکنگ شروع کی جائے گی اور مرد کے چلاتے ہوئے پکڑے جانے پر اسکوٹی فوری ضبط کرلی جائے گی۔
سینئر وزیر کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے کسانوں کو ’ہاری کارڈ‘ اور مزدوروں کو ’لیبر کارڈ‘ فراہم کیے، جبکہ میرپورخاص کسانوں کا بڑا بیلٹ ہے اور تھر کول پراجیکٹ، بہترین ہسپتالوں اور یونیورسٹیز کا سہرا پیپلز پارٹی کے سر ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسکوٹی یا دیگر سہولیات حاصل کرنے والوں پر پیپلز پارٹی کو ووٹ دینا لازم نہیں ہے۔
شرجیل میمن نے بلاول بھٹو زرداری کی بطور وزیر خارجہ کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بھارت جا کر بھی کشمیر اور پاکستان کا مقدمہ ڈٹ کر لڑا۔
انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے ایٹمی پروگرام کے عزم اور سکیورٹی فورسز کی دفاعی صلاحیتوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی طرف اٹھنے والی ہر میلی آنکھ نکال دی جائے گی۔






