خیبر پختونخوا کے علاقے ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک چیک پوسٹ پر دھماکے اور فائرنگ کے نتیجے میں 11 افراد شہید جبکہ 30 سے زائد زخمی ہوگئے۔
پولیس کے مطابق دھماکا تحصیل درازندہ میں امن میلہ چیک پوسٹ پر ہوا، جس میں سکیورٹی ذرائع کے مطابق 6 پولیس اہلکار، 2 کسٹمز اہلکار، 2 خواتین اور ایک 2 سالہ بچہ شہید ہوئے۔
یہ خیبرپختونخوا میں گزشتہ سات دنوں کے اندر ہونے والا دہشت گردی کا دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل 18 ستمبر کو کوہاٹ پرانی پولیس لائنز کی مسجد میں دھماکے کے نتیجے میں 23 افراد شہید جبکہ 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے، شہدا میں 17 پولیس اہلکار اور 6 شہری شامل تھے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ امن میلہ چیک پوسٹ دھماکے میں پولیس اہلکاروں، کسٹمز حکام اور عام شہریوں سمیت 30 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ امن میلہ چیک پوسٹ ایک طرح کی جوائنٹ چیک پوسٹ ہے جہاں وائلڈ لائف، ایکسائز اور سکیورٹی فورسز کے اہلکار موجود ہوتے ہیں۔
زخمیوں میں بعض کی حالت تشویشناک ہے جس کے باعث شہدا کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرتے ہوئے اسپتال منتقل کیا جاچکا ہے، جبکہ 11 شہید افراد کے جسد خاکی بھی جائے وقوعہ سے برآمد کرلیے گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ٹیمیں جائے وقوعہ کی جانب روانہ کی گئیں، جہاں دہشت گردوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
ریسکیو 1122 کے مطابق جائے وقوعہ پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں، جن میں ریسکیو 1122 کی 6 ایمبولینسز، ایک فائر وہیکل اور 25 سے زائد اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ اینڈ کلیئرنس کارروائی شروع کردی ہے، جبکہ دھماکے کی نوعیت اور نقصانات سے متعلق معلومات اکٹھی کی جارہی ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والے خودکش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے حملے میں شہید ہونے والے افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا، جبکہ زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔
محسن نقوی نے کہا کہ دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائیاں دہشت گردی کے خلاف قوم کے پختہ عزم کو کمزور نہیں کرسکتیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم متحد ہے اور ملک میں امن کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا کے پولیس اہلکاروں، سکیورٹی فورسز اور شہریوں کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
محسن نقوی نے کہا کہ حکومت اور قوم دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور امن کے قیام کے لیے دی جانے والی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
وزیر داخلہ نے شہدا کے درجات کی بلندی اور سوگوار خاندانوں کے لیے صبر جمیل کی دعا بھی کی۔






