خصوصی عدالت (وسطی) نے پنجاب پاور ڈویلپمنٹ کمپنی (پی پی ڈی سی) میں مبینہ کرپشن کے مقدمے میں وزیر اعظم شہباز شریف کی صاحبزادی رابعہ عمران اور داماد علی عمران یوسف کو بری کر دیا، جج اشفاق احمد نے بریت کی درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے دونوں ملزمان کو مقدمے سے بری کرنے کا حکم دیا۔یادرہے کہ رابعہ اور ان کے شوہر نے حال ہی میں خود ساختہ جلاوطنی ختم کی اور اپنے خلاف مقدمات کا سامنا کرنے کے لیے پاکستان واپس آگئے۔انسداد بدعنوانی کی ایک عدالت نے انہیں رواں ماہ کے شروع میں پنجاب صاف پانی کمپنی میں مبینہ بے ضابطگیوں کے کیس میں بری کر دیا تھا۔
انگریزی جریدے ڈان نے بتایاکہ استغاثہ کے مطابق پی پی ڈی سی کے سابق سی ایف او اکرام نوید نے جوڑے کی ملکیت علی اور فاطمہ ڈویلپرز کمپنی میں فنڈز لگائے اور اپنے پلازہ، علی ٹریڈ سینٹر میں دو منزلیں خریدیں، نوید نے پلازہ میں 132 ملین روپے لگائے تھے۔
جوڑے کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ملزم نوید کی سرمایہ کاری کی وجہ سے پلازہ سیل کیا گیا، جوڑا رقم واپس کرنے کے لیے تیار ہے بشرطیکہ پراپرٹی ریلیز کی جائے۔ عدالت نے قراردیا ہے کہ نیب ٹرانزیکشن سے منسلک رقم ریکور کر سکتا ہے۔
عدالت نے قراردیا ہےکہ جوڑے کو ان کی کمپنی میں سرمایہ کاری کی بنیاد پر اس کیس میں ملوث کیا گیا جو کہ ایک ملزم کی طرف سے کی گئی تھی جو بلا جواز ہے، نیب نے بغیر کسی ثبوت کے جوڑے کے خلاف ضمنی ریفرنس دائر کیا ہے۔
فاضل جج نے رابعہ اور علی عمران کی بریت کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے انہیں کیس سے بری کردیا۔یادرہے کہ ابتدائی طور پر احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کیا گیا اور بعد ازاں نیب قانون میں ترامیم کے بعد خصوصی عدالت (مرکزی) کو منتقل کر دیا گیا۔کیس کے ریکارڈکے مطابق ملزم نوید نے کرپشن ریفرنس میں نیب سے پلی بارگین کی تھی۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






