کوکین سپلائی کرنے والی ملزمہ انمول عرف پنکی کی مکمل تحقیقاتی رپورٹ سامنے آ گئی ہے، جس میں منشیات کی اسمگلنگ، پولیس افسران سے تعلقات اور نیٹ ورک چلانے کے حوالے سے ہوش ربا انکشافات کیے گئے ہیں۔
ملزمہ انمول عرف پنکی نے بتایا کہ اس نے ابتدائی تعلیم سہراب گوٹھ کراچی کے سرکاری اسکول سے حاصل کی۔ 2006 میں ماڈلنگ اور اداکاری کے شوق میں وہ لاہور منتقل ہوئی جہاں فلم ڈائریکٹرز کے دفاتر کے چکر کاٹنے کے دوران اس کی ملاقات پولیس افسر رانا ناصر سے ہوئی۔
ملزمہ کے مطابق رانا ناصر اور رانا اکرم اس کے سابقہ شوہر ہیں اور دونوں پولیس میں افسر تھے۔ سابق شوہر رانا ناصر نے اسے اپنے منشیات فروش گینگ کا حصہ بنایا۔ رانا ناصر کے ذریعے ہی اس کی ملاقات گروہ کے دیگر ارکان بوبی اور کرن سے ہوئی۔ بعد ازاں بوبی کے کہنے پر اس نے رانا ناصر سے طلاق لی اور علیحدگی اختیار کر کے منشیات کا اپنا کام شروع کیا۔
دورانِ تفتیش ملزمہ نے بتایا کہ اس کی ساتھی کرن نے ایک سیاہ فام افریقی باشندے سے شادی کر رکھی ہے جو پاکستان میں خالص کوکین اسمگل کرتا تھا۔ ملزمہ اس خالص کوکین میں کیٹامائن، میتھ، لائڈوکین اور ایپی سیڈ نامی کیمیکلز ملا کر اس کی مقدار بڑھاتی اور فروخت کرتی تھی۔
انمول عرف پنکی کے مطابق رانا ناصر کا نیٹ ورک راولپنڈی، لاہور اور کراچی تک پھیلا ہوا تھا اور رانا نے ہی مجھے کراچی کا انچارج بنایا تھا۔ میں پہلے منشیات بریف کیس میں رکھ کر کراچی کے اقبال عرف بالا کو پہنچاتی تھی۔ خود مختار ہونے کے بعد میں نے لاہور سے کراچی منشیات لانے کے لیے ایک خاتون ملازمہ رکھی تھی جو فی چکر 50 ہزار روپے لیتی تھی۔ کراچی میں، میں نے 7 رائیڈرز پر مشتمل نیٹ ورک بنایا، جس میں سے عاقب، اعزاز اور حمزہ اب بھی سرگرم ہیں۔
ملزمہ نے انکشاف کیا کہ 2024 میں اسے سی آئی اے لاہور نے گرفتار کیا تھا، تاہم اس نے الزام لگایا کہ سی آئی اے لاہور نے اسے چھوڑنے کے عوض 2 گاڑیاں اور 50 لاکھ روپے بطور رشوت وصول کیے۔
ملزمہ نے بتایا کہ پیسوں کی وصولی کے لیے اس نے سمیر نامی شخص کے نام پر بینک اکاؤنٹ کھول رکھا تھا، جبکہ گلشن اقبال میں ایک ایزی پیسہ ریٹیلر کے ذریعے بھی گاہکوں سے رقم وصول کی جاتی تھی۔ پولیس نے تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں نیٹ ورک کے دیگر ارکان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنے کا فیصلہ کیا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






