انجینئر محمد علی مرزا کیس میں آئینی اختیارات پر عدالت کا بڑا سوال

اسلام آباد:  انجینئر محمد علی مرزا سے متعلق اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے کے خلاف کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق عدالت نے اٹارنی جنرل سے معاونت طلب کرتے ہوئے پوچھا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کو کس حد تک رائے دینے کا اختیار ہے؟ اسلامی نظریاتی کونسل کس حد تک اختیار استعمال کرسکتی ہے؟ یہ آپ نے بتانا ہے، 26ویں یا 27ویں ترمیم میں اسلامی نظریاتی کونسل، وفاقی شرعی عدالت کے اختیارات بھی واضح کر دیتے۔وکیل ڈاکٹر اسلم خاکی نے جواب دیا کہ 28ویں ترمیم آرہی ہے، بے شک اس میں کردیں، جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ ہاں یہ کورٹ نہیں بلکہ ڈاکٹر صاحب کہہ رہے ہیں، 28ویں ترمیم میں بے شک یہ کردیں، جہاں اتنا کچھ کرنے لگے ہیں یہ بھی 28ویں ترمیم میں ہی کردیں۔عدالت نے ہدایت کی کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل آئین سے اسلامی نظریاتی کونسل کے اختیارات پڑھ کر بتائیں، جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسمبلیاں یا سینیٹ کسی مجوزہ قانون کا ڈرافٹ اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیج سکتی ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ ویسے بھی فریقین کی رضا مندی کے ساتھ آرڈر ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ کوئی قانون بننے سے پہلے اسلامی نظریاتی کونسل اپنی رائے دے سکتی ہے تاکہ کوئی قانون قرآن و سنہ کے خلاف نا ہو، جس پر جسٹس محسن اختر کیانی بولے کہ آپ بھی وہی بات کر رہے ہیں جو ڈاکٹر اسلم خاکی کر رہے ہیں۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ انجینئر محمد علی مرزا کا معاملہ ٹرائل کورٹ کے سامنے ہے اس پر کوئی رائے فریقین کے حقوق متاثر کر سکتی ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ یہ عدالت کیس پر کوئی رائے نہیں دے رہی، ہمارے سامنے ایک ہی سوال ہے، گورنرز، صدر، قومی اسمبلی، سینیٹ یا صوبائی اسمبلیز کی جانب سے رائے مانگنے کے علاوہ کیا نظریاتی کونسل دے سکتی ہے؟عدالت نے کہا کہ ہم نے صرف نظریاتی کونسل اختیارات کے حوالے سے دیکھا ہے، اسلامی نظریاتی کونسل نیجو رائے دی ایسا ان کا اختیار قانون میں موجود نہیں، نظریاتی کونسل والوں کو بھی کہا تھا کہ خود سے وہ اپنے اختیار کو دیکھ لیں گے تاکہ ہمیں فیصلہ نا کرنا پڑے۔ڈاکٹر اسلم خاکی نے کہا کہ این سی سی آئی اے نے انجینئر محمد علی مرزا کا معاملہ اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوایا تھا، این سی سی آئی اے کو اس متعلق معلوم نہیں تھا اس لیے انہوں نے معاملہ رائے کیلئے بھجوایا۔درخواست گزار اسلم خاکی نے سوال کیا کہ کیا فیصلہ آج ہی سنا دیں گے؟ جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے مسکراتے ہوئے ریمارکس دیے کہ فیصلہ آج ہی ہو جائے گا ویسے بھی 24 گھنٹے رہ گئے ہمارے پاس۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close