ظہیر کو چھوڑ کر کراچی نہیں جاؤں گی، دعا زہرہ بھی ڈٹ گئی

کراچی ( پی این آئی ) کراچی سے لاہور جا کر پسند کی شادی کرنے والی دعا زہرا نے کہا ہے کہ اگر اس کے والدین نے مداخلت کی یا ظہیر سے جدا کرنے کی کوشش کی تو انتہائی اقدام اٹھا دوں گی لیکن ظہیر کو چھوڑ کر کراچی نہیں جاؤں گی۔انہوں نے ایک انٹرویو میں مزید کہا کہ اگر میڈیکل بورڈ کی بنیاد پر ظہیر سے الگ کیا گیا تو وہ کسی صورت والدین کے پاس نہیں جائے گی۔

دعا زہرا نے مزید بتایا کہ والدین چھوٹی چھوٹی باتوں پر اسے مارتے پیٹتے تھے، والدین کے پاس گئی تو وہ یقینا مار دیں گے۔دعا نے کہا کہ وہ دارالامان جانے کے بجائے شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہے۔دعا زہرا نے مزید کہا کہ ظہیر سے الگ ہونے کا سوچتی بھی ہوں تو دل گھبرانا شروع ہو جاتا ہے۔میں بالغ ہوں اور میری نکاح جائز ہے، میں ظہیر کے بغیر رہ ہی نہیں سکتی۔جب کہ ظہیر کا کہنا ہے کہ مجھے اپنی عدالتوں پر پورا یقین ہے ، وہ ہمیں انصاف ضرور دیں گے،میں دعا زہرا کے لیے جیل بھی جانے کے لے تیار ہوں۔دوسری جانب سٹی کورٹ کراچی میں جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی نے دعا زہرا کیس کی سماعت کی ، ملزم ظہیر کے وکیل بھی عدالت میں پیش ہوئے ، جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی آفتاب احمد بگھیو نے دعا زہرا کے مبینہ اغواء کے کیس کی سماعت کرتے ہوئے تفتیشی افسر سے کیس کا ضمنی چالان طلب کر لیا ، اس کے علاوہ عدالت نے ظہیر کی 15 سے 19 اپریل تک کی کال ڈیٹا ریکارڈر رپورٹ طلب کرلی اور کیس کی مزید سماعت 20 جولائی تک ملتوی کر دی۔گزشتہ روز دعا زہرا کے والد نے بیٹی کی بازیابی کے لیے ایک اور درخواست دائر کی ، سندھ ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں سے استدعا کی گئی ہے کہ دعا زہرا کو ملک سے باہر لے جانے سے روکا جائے اورظہیر احمد کی غیرقانونی حراست سے بازیاب کرا کے والدین کے حوالے کیا جائے ، اگر مغویہ کے ساتھ جنسی زیادتی ثابت ہو تو ملزم ظہیر کے خلاف کارروائی کی جائے۔

درخواست میں محکمہ داخلہ سندھ ، آئی جی سندھ ، ایس ایچ او الفلاح ، ظہیر احمد اور دیگر کو فریق بناتے ہوئے مزید کہا گیا ہے کہ سنگل میڈیکل بورڈ نے بون اوسیفیکشن کے بعد عمر 17 سال کے قریب بتائی تاہم نئے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ میں دعا زہرا کی عمر 16 سال سے کم ثابت ہوچکی ہے ، عدالت 14 سالہ کم عمر دعا زہرا کو بازیاب کرانے کا حکم دے۔