حق ناحق، ممتاز دانشور فیاض باقر کی سلسلہ وار تحریر

آئینہ
ہم میں سے ہر ایک میں خوبصورت نظر آنے کی خواہش موجود ہے۔ آئینہ نہ ہوتا تو ہماری زندگی کتنی ادھوری ہوتی۔ ہمیں یہ ہی پتہ نہ چلتا ہم کتنے پانی میں ہیں۔ آئینہ نہیں تھا تو لوگ شفاف پانی کے تالابوں میں جھانک کر اپنا عکس دیکھ سکتے تھے۔ پہلی دفعہ تالاب میں جھانکنے والے کو پانی کے اندر ایک دُوسرا انسان نظر آتا ہے۔ تالاب میں کودنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ دکھنے والا تالاب کے باہر ہے اندر نہیں۔ اور وہ شخص میں ہوں کوئی اور نہیں۔ پھر تالاب سے آئینے کی طرح محبت سی ہو جاتی ہے۔ کیونکہ اُس میں اپنی شکل نظر آتی ہے۔ آجکل یہ مقام سیل فون کو حاصل ہو گیا ہے۔ کیوں کہ اب لائک گننے سے لوگ اپنی خوبصورتی یا مقبولیت کا پتہ چلاتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ دیکھنا ہے کہ آئینے میں اپنی شکل دیکھنے کے بعد ہم کیا کرتے ہیں۔ آئینے میں ہمیں اپنی شکل میں کوئی کمی نظر آئے تو ہم اُسے دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم مُسلسل اپنی شکل کا دوسروں کی شکل سے موازنہ کرتے ہیں۔ زیادہ یا کم۔ اور اپنے آپ کو خوبصورت بنانے یا دوسروں سے زیادہ خوبصورت آنے کے جتن کرتے ہیں۔ کُچھ خوش قسمت لوگ مُنہ دھو کر ہی خوش ہو جاتے ہیں، کہ یہی “اصل سے بہتر” نظر آنے کا بہترین طریقہ ہے۔ جو لوگ اس پر مطمئن نہیں ہوتے اُن کی وجہ سے کھربوں ڈالر کی فیشن کی صنعت، بیوٹی پارلر، ڈائٹنگ اور ہیلتھ اور فٹنس سنٹر کی صنعتیں قائم ہیں۔ لیکن کسی بھی شخص کو اپنی خوبصورتی میں کوئ کمی محسوس ہو تو وہ اس کا ذمہ دار کُرپٹ سیاستدانوں، فوجی آمروں یا بد دیانت میڈیا کو نہیں ٹھہراتا۔

جونہی ہم اپنے جسم کی چہاردیواری سے باہر قدم رکھتے ہیں۔ یا اپنے من کے اندر جھانکتے ہیں تو ہماری توقعات اور ہمارا رویہ بدل جاتا ہے۔ شاید ہم نے بھُلا دیا ہے کہ ہر چیز دوسری چیزوں سے جُڑی ہوئی ہے۔ ہماری گلی میں کچرا ہو، پانی کے نل میں پانی آلودہ ہو۔ گلی کی اینٹیں اُکھڑی ہوئ ہوں۔ غربت برہنہ ناچ رہی ہو تو ہم آئینہ دیکھنے کی بجائے میڈیا اور سوشل میڈیا کو دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہم نے بھُلا دیا ہے کہ ہماری گلی، محلے، گاؤں اور برادری کی خُوبصورتی بھی ہماری خوبصورتی کا حصہ ہے- اور اس خوبصورتی کو بڑھانے کیلئے بھی ہمیں کوئ “ بیوٹی پارلر” یا “فٹنس سنٹر” تلاش کرنے چاہئیں۔ اور اپنی چیک بُک ڈائیٹنگ کرنی پڑے تو بُرا نہیں۔ شاید اس سے میرا وزن کم ہو جائے اور کسی لاغر بدن کو زندگی کی حرارت مل جائے۔ اس چیک بُک ڈائیٹنگ کا جدید نام ٹیکس کی ادائیگی ہے۔ کم از کم چودہ پاکستانیوں کو سماجی حُسن میں اضافہ کرنے پر رامون میگا سیسے ایوارڈ مل چُکا ہے۔ جسے ایشیا کا نوبل پرائز کہا جاتا ہے۔ اُن کے پارلر یا فٹنس سنٹر سے خدمات حاصل کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے

ساڈے گھر دا نہ بُوہا نہ باری، ہر کوئی اندر آ سکدا ہے

سماجی خدمت کا حُسن سنگت سے قائم ہوتا ہے۔ سنگت مانگنے سے نہیں دینے سے قائم ہوتی ہے-آُس کی شُروع میں سے ہوتی ہے تُو سے نہیں۔ اور اس کا نتیجہ فوری نظر نہیں آتا۔ جیسے بیج کا پودے میں بدلنا فوری طور پر واقع نہیں ہوتا۔ اس کی بنیاد ہماری ہزاروں سال پُرانی دانائی پر قائم ہے “پہلے آپ”۔ یہ مختصر کلام وہ دروازے کھول سکتا ہے جو تاج و تخت کی قوت سے نہیں کھُل سکتے۔

ایک اور سوال اپنے من میں جھانک کر دیکھنا ہے۔ کہ یہ کتنا خوبصورت ہے۔ اس کی خوبصورتی کو بڑھانے کی کر یمیں، لوشن اور پرفیوم کہاں ملتے ہیں۔ اصل میں من کی خوبصورتی سے سب سے زیادہ لذت اور راحت انسان کو خود ملتی ہے۔ اس لئے یہ سب سے زیادہ اہم ہے کیونکہ اس میں دوسروں کے سامنے نمائش سے زیادہ اپنے سکون اور آسائش کی اہمیت ہوتی ہے۔انسان کے من کی خوبصورتی کو جاننے کا ایک ہی طریقہ ہے۔ وہ دوسروں میں خوبصورتی دیکھنے کی کتنی قُدرت رکھتا ہے۔ میری خوش قسمتی ہے کہ مُجھے اپنے سکول اور محلے میں میلے لباس اور اُجلے دلوں والے بے شمار دوست ملے اور اُنہوں نے محبت کی جو لو میرے دل میں جگائ اُس سے میرے دل کی دُنیا آج بھی روشن ہے۔

دوسری جماعت میں میرا ایک ہم جماعت خُدا بخش تھا۔ جو ڈیرہ اسماعیل خان کے دامان کے علاقے سے تعلق رکھتا تھا۔ دن کو سکول میں پڑھتا تھا۔ شام کو اپنے باپ کے لکڑیوں کے ٹال پر اپنے باپ کی مدد کرتا تھا۔ ہم دونوں اکٹھے سکول آتے جاتے تھے۔ ایک دفعہ کسی بچے نے ہیکڑی دکھانے کیلئے میری طرف ہاتھ اُٹھایا تو خُدا بخش نے تختی نکال لی۔ امن قائم ہو گیا۔ امن اور انصاف سنگت سے قائم ہوتا ہے۔ یہ بات جو ایک چھوٹے بچے کو یاد تھی بڑے بڑوں نے بھُلا دی ہے۔ایک دوسرا دوست گُل محمد تھا جو بہت خوش خط تھا۔ اُس کا والد سائیکل مکینک تھا۔ وہ بھی سکُول کے بعد اپنے باپ کے ساتھ کام کرتا تھا۔ چوتھی جماعت میں ایک دن اُس نے کہا میں سکول چھوڑ رہا ہوں۔ میرا دل بیٹھ گیا- کیوں ؟ تم تو اتنا خوشخط لکھتے ہو۔ میرے باپ کو سائیکل کی دُکان پر میری مدد کی ضرورت ہے۔ اب اُس کے اکیلے کام کرنے سے گھر کا خرچہ پورا نہیں ہوتا۔ ہم نے ادھر اُدھر سے پُرزے اکٹھے کر کے ایک موٹر سائیکل بھی بنا لیا ہے۔ گُل محمد کے جانے کے بعد مُجھے ایسا لگا جیسے سکُول ادھورا ہو گیا ہے۔ گُل محمد نے میرے دل میں پورا ہونے کی طلب کی جو چنگاری جلائی تھی وہ آج دن تک سُلگ رہی ہے۔ روز میرے من مُجھے پُکارتا ہے۔

نہ کر کیچ ونجن دی رہو بروچل یار

اور پھر جواب آتا ہے
میں وی جانا جھوک پُنل دی نال میرے کوئی چلے

اور اسی کے تسلسل میں مادھو لال حسین کا اگلا شبد

جانا تاں پیا اکلے

پورا ہونا سنگت کے ناطے سے ہے۔سنگت نہ ہو تو لال حُسین کی زبان میں
خلقت گئی ادُھوری
اور پُورا ہونے کا کیا طریقہ ہے
دل درداں کیتی پُوری
جو لو گ محمد نے جگائی تھی ۔