مقبولیت کا خمیازہ ، سینئر صحافی سہیل اقبال بھٹی کا کالم

پی این آئی کے یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کریں ۔

مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑنے کےباوجود منزل کے حصول کیلئے اپنائی گئی حکمت عملی اور راستہ درست نہیں۔غلطی پرغلطی کہاں کی دانشمندی ہے۔ یہ ایساتو ہرگز نہیں تھا۔ اپنی غلطی کی درستگی کرنا اسکا خاصہ رہا ہے۔ ٹیسٹ میچز کے دوران جب کھلاڑی تھک ہار کر آرام کررہے ہوتے تھے تو عمران خان پی ٹی وی کی اوبی(Outside Broadcasting) وین میں بیٹھ کر انتہائی انہماک کیساتھ دن بھرکے کھیل کی ریکارڈنگ دیکھتا تھا۔

پاکستان ٹیلی ویژن میں پروڈیوسر سے ایم ڈی کے عہدے تک کامیاب سفر مکمل کرنیوالے اختر وقارعظیم صاحب انتہائی خوبصورت انداز اور روانی کیساتھ عمران خان کی اپنی غلطیوں سےسیکھنے کی روداد بیان کررہے تھے۔ اختر وقار عظیم صاحب نے اپنی کتاب ”ہم بھی وہیں موجود تھے” میں حکمرانوں کے کئی واقعات قلمبند کئے ہیں جنہیں پڑھنے کے بعد آپ سر دُھنتے رہ جائیں گے۔ اختروقارعظیم صاحب کے مطابق عمران خان ناصرف اپنی غلطیوں بلکہ پوری ٹیم کے کھلاڑیوں کے کھیل کا اچھی طرح جائزہ لینے کےبعد مشورہ کرتا تھا۔ اگلے دن کی حکمت عملی تیار کرکے جب میدان میں اُترتا تو گذشتہ دن کی غلطیوں کا ازالہ ہوجاتا۔ اس حکمت عملی اور مستقل مزاجی نے ہی کرکٹ کے میدان میں عمران خان کانام روشن کیا مگر نہ جانے اسے کیا ہوگیا ہے کہ وہ اپنی غلطیوں پرنظرثانی کرنے پر تیار ہی نہیں۔

میں سوچتاہوں کہ شاید مقبولیت کےزُعم نے عمران خان کو اپنے فیصلوں،نعروں،وعدوں اور حکمت عملی میں غلطی کے خیال سے ہی مبرا کردیا ہے۔ عمران خان کا پارلیمنٹ میں نہ جانے اور استعفی دینے کافیصلہ ہی اُنکے سیاسی کیرئیر میں ایک بہت بڑی غلطی تھی۔ اس غلطی کا خمیازہ پوری قوم اور قومی خزانہ بھگت رہا ہے مگر پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی مقبولیت پر جشن منارہی ہے۔ تعجب ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے قومی اسمبلی کی آٹھ نشستوں پر ضمنی الیکشن میں حصہ لیا مگر دونشستیں ہاتھ سے نکل گئیں مگراسے عظیم کامیابی سے تعبیر کرتے ہوئے شادیانے بجائے جارہے ہیں۔شادیانے بجانے کیساتھ کوئی بھی پاکستان تحریک انصاف کا رہنما قوم کو یہ نہیں بتارہا ہے کہ عمران خان نے جن قومی اسمبلی کی نسشتوں پر الیکشن لڑا وہاں الیکشن کے انعقاد پر اس غریب قوم کے 47کروڑ روپے خرچ ہوگئے۔

سرکاری مشینری اور قومی وسائل کا ضیاع الگ ہوا۔ عمران خان نے ضمنی الیکشن میں حصہ لینے کےباوجود پارلیمنٹ میں تو جانا نہیں ہے مگر کسی دن یوٹرن لیتے ہوئےپارلیمنٹ کا رُخ کربھی لیا تو صرف ایک قومی اسمبلی کی نشست انکے پاس ہوگی جبکہ دیگر جیتی گئی نشستوں پر دوبارہ ضمنی الیکشن ہوگا۔یعنی عمران خان کی مقبولیت جانچنے کیلئے غریب عوام کو 47کروڑ روپے کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ عمران خان کا قانونی سُقم کے باعث بیک وقت کئی قومی اسمبلی کے حلقوں سے الیکشن لڑنا قوم کیساتھ ایک مذاق ہی ثابت ہوا۔ مگر اس مذاق مذاق میں عمران خان نے یہ ضرور ثابت کیاہے کہ مستقبل میں جب کبھی وہ الیکشن میں ہاریں گے تو شکست تسلیم کرنے کی بجائے دھاندلی کا الزام لگائیں گے جیسا کراچی ملیر میں عبدالحکیم بلوچ کی جیت پر دھاندلی کا الزام عائد کردیا گیاہے۔ پی ٹی آئی کا یہ موقف اگر تسلیم بھی کرلیا جائے کہ ضمنی الیکشن ایک ریفرنڈم تھا تو اس ریفرنڈم میں کراچی ملیر کے حلقے میں عبدالحکیم بلوچ نے ثابت کردیا کہ وہ اس حلقےمیں عمران خان سے زیادہ مقبول اور بڑے لیڈر ہیں۔

ضمنی الیکشن کے نتائج کےبعد عمران خان نے ایک مرتبہ پھر پورے زور وشور کیساتھ اسلام آباد پر چڑھائی کی تیاری شروع کردی ہے۔ اسلام آباد میں مختلف شاہراوں پر گذشتہ کئی ہفتوں سے کنٹینرز کی بھرمار ہے۔ اسلام آباد انتظامیہ نے وزارت داخلہ کی ہدایت پر سینکڑوں کنٹینرز لانگ مارچ کے پیش ریڈ زون اور دیگر مقامات کو بند کرنے کیلئے پہنچا دئیے ہیں۔اسلام آباد انتظامیہ کو کنٹینرز مالکان کو کروڑوں روپے کا معاوضہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ 25مئی کو بھی جب ڈی چوک میں دھرنے کی کال دے کراسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تھا تو کنٹینرز اور سیکورٹی کے انتظامات پر 80کروڑ روپے سے زائد اخراجات آئے تھے۔ اس مرتبہ یہ اخراجات تین ارب روپے سے بھی زائد ہوں گے۔ کاروباری سرگرمیاں الگ سے متاثر ہوں گی۔ قومی وسائل کے ساتھ قیمتی وقت کا ضیاع اور سرکاری امور بُری طرح متاثر ہونگے۔ پاکستان اس وقت سیلاب کی تباہ کاریوں کے باعث بدترین معاشی بحران سے گذر رہا ہے۔ زرعی پیداوار تباہ ہوکر رہی گئی ہے۔ کپاس اور گندم کی پیداوار میں خطرناک حد تک کمی کے باعث اربوں ڈالرز کا بندوبست کرکے دونوں مصنوعات کی بڑی مقدار درآمد کرنا پڑے گی۔

موسم سرما میں بدترین گیس بحران سے نمٹنے کیلئے منصوبہ بندی کرنے والے مارچ سے نمٹنے میں اپنا وقت صرف کررہے ہیں۔ اس لانگ مارچ سے قطعاقوم کی کوئی خدمت ہوسکے گی اور نہ ہی پی ٹی آئی حکومت سے اپنے مطالبات منوا سکے گی۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے باعث عمران خان کی ڈی چوک میں دھرنے کی خواہش کبھی پوری نہیں ہوسکے گی۔ لانگ مارچ کے بعد ایچ نائن یا پریڈ گراؤنڈ میں جلسہ یا دھرنا قطعاکارگر ثابت نہیں ہوگا۔ عمران خان کو سوچنا ہوگا کہ یہ 2014ء نہیں جب وزیر داخلہ چودھری نثار اور اداروں کی محبت وحمایت ان کے قافلے کو شاہراہ کشمیر سے پارلیمنٹ کے سامنے ڈی چوک پر لے آئی تھی۔ 2014ء کے دھرنے سے بھی پاکستان کی معاشی ترقی متاثر ہوئی تھی آج بھی عمران خان کی سیاسی حکمت کے باعث وطن عزیز کی معیشت سکسیاں لے رہی ہیں۔

ویسے عمران خان اور اسکے چاہنے والوں کے درمیان ستاروں کی بھی عجیب گردش ہے۔ جس نے بھی اپنا تن،من اور دھن عمران خان پر قربان کیااسے بدلے میں نہ جانے کیوں بے وفائی اور رُسوائی ملی۔ عمران خان کے دل میں گھر کرنے والوں کا ہمیشہ خیال رہا ہے کہ اب خان کے نزدیک اس سے زیادہ کوئی نہیں ہے۔ عمران خان کیساتھ مل کر نیا پاکستان بنانے کا خواب دیکھنے والے اب خود ایک خواب ہوچکے ہیں۔ پارٹی رہنماؤں اور 25سالوں کی رفاقت رکھنے والے شکستہ دل ہوکر اپنے گھروں تک محدود ہوچکے۔ اب عمران خان سے عوام کا آخری رومانس جاری ہے۔ ٹھاٹھیں مارتا رومانس عمران خان کو ہر دوسرے دن جلسے کرنے پر اُکساتا ہے۔ پروپیگنڈے اور سوشل میڈیا سے ہیپناٹائزڈ عوام تبدیلی اور خوشحالی کیلئے کوشاں ہیں مگر عمران خان آئے روز افواج پاکستان اور عدلیہ کے خلاف سازشی اورمتنازع بیانات دے کر اس رومانس کو بھی دفن کرنے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ 25سال سے عوام کی زندگیوں میں انقلاب لانے کے دن رات دعووں اور نعروں کے سواخان صاحب کے پاس کوئی پلان نہیں۔ انکی سب سےبڑی خوشی اور کامیابی وفاقی دارلحکومت کو بندکرنے،دھرنوں،جلسوں اورتخریبی بیانات میں ہے۔
عمران خان اگر عوام کے کی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی کے متمنی ہیں تو انہیں پارلیمنٹ میں واپس جا کراپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہئے۔ پارلیمنٹ،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور قائمہ کمیٹیوں میں اپوزیشن کا موثر کردار ملک کی تعمیر وترقی میں معاون ثابت ہوسکتا ہے مگر افسوس ہم نے تعمیری سیاست پر تخریبی سیاست کو ترجیح دی جس کا خمیازہ آج پی ٹی آئی سمیت پوری قوم بھگت رہی ہے مگر خان صاحب یہ سب تسلیم کرنے پر تیار نہیں۔ تسلیم کریں بھی کیسے، جب اپنی غلطیوں پر نظرثانی کی گنجائش ہی ختم کردی۔۔۔۔

close