برقی گاڑیوں کے مالکان ہو جائیں ہوشیار! تحقیق میں اہم انکشاف

*الیکٹرک گاڑیوں کے مالکان کے لیے پریشان کن خبر، ٹائروں کی خرابی کا خطرہ 1.8 گنا زیادہ*

 

ایک تازہ ترین تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں میں پہیوں اور ٹائروں سے متعلق خرابیوں کا امکان پٹرول سے چلنے والی گاڑیوں کے مقابلے میں تقریباً 1.8 گنا زیادہ ہوتا ہے۔

 

برٹش وہیکل رینٹل اینڈ لیزنگ ایسوسی ایشن کی جانب سے کی گئی تحقیق میں برطانیہ میں 4 کروڑ 70 لاکھ سے زائد MOT ٹیسٹوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔

 

تحقیق کے مطابق اس کی دو بڑی وجوہات ہیں:

 

*1. بیٹری کا بھاری وزن:* بعض الیکٹرک گاڑیوں میں صرف بیٹری پیک کا وزن 299 سے 499 کلوگرام تک ہوتا ہے، جو گاڑی کے کل وزن کا 25 فیصد تک بنتا ہے۔ یہ اضافی وزن براہ راست ٹائروں پر دباؤ ڈالتا ہے۔

 

*2. فوری ٹارک:* پٹرول انجن کے برعکس الیکٹرک موٹر اسٹارٹ ہوتے ہی فوری طور پر بہت زیادہ ٹارک فراہم کرتی ہے، جس سے ٹائروں پر اچانک قوت پڑتی ہے اور ان کے گھسنے یا پھٹنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

 

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پرانے ماڈلز کی الیکٹرک گاڑیوں میں ٹائروں کے مسائل زیادہ دیکھے گئے، جبکہ بعض گاڑیوں میں رگڑ سے کام کرنے والے بریکس میں بھی خرابیاں رپورٹ ہوئیں۔

 

  1. ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اس وجہ سے الیکٹرک گاڑیوں کے مالکان کو اضافی مرمت اور مہنگے پریمیم ٹائروں کی تبدیلی پر سینکڑوں پاؤنڈز تک خرچ کرنا پڑ رہا ہے۔