ذوالفقار علی بھٹو کی کتاب “میرا لہو” سے تیسری قسط، فرخ سہیل گوئندی کے قلم سے

طاقت کے ایوانوں میں

پاکستان کی سیاست پر روزِاول ہی سے چند خاندانوں، جاگیرداروں، سول و فوجی افسر شاہی اور بیرونی سامراجی مفادات کی تکمیل کرنے والوں کی گرفت رہی ہے۔ جب ذوالفقار علی بھٹو اپنی تعلیم مکمل کرکے کراچی منتقل ہوئے تو اس وقت پاکستان محلاتی سازشوں اور غیرعوامی سیاست کے بھنور میں پھنس چکا تھا۔

ذوالفقار علی بھٹو بھی اپنے اعلیٰ خاندانی پس منظر کے حوالے سے ہی سیاست اور اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہوئے، لیکن ذوالفقارعلی بھٹو کی ذہانت اور جدید خیالات و نظریات نے ان کو دیگر جاگیرداروں اور مراعات یافتہ نوابزادوں سے ہمیشہ ہی منفرد بنایا۔ ذوالفقارعلی بھٹو نے عالمی شہرت یافتہ صحافی اور یانا فلاشی کو اپنے ایک تاریخی انٹرویو میں کہا کہ:میں نے اپنے جاگیردار اور مراعات یافتہ پس منظر کے حوالے سے اپنی دولت کو عیاشیوں کے بجائے حصولِ علم کی خاطر استعمال کیا۔ میرے مغرب کے سفر کلبوں کی عیاشیوں کے بجائے معروف سکالرز اور دانشوروں کے ساتھ تعلقات استوار کرنے میں کام آئے اور میرا پیسہ کتابوں پر صَرف ہوا۔‘‘ اور یانا فلاشی اپنی کتاب Interview With History میں لکھتی ہیں کہ’’ اس امر کی تصدیق المرتضیٰ (لاڑکانہ) اور 70 کلفٹن (کراچی) میں ذوالفقارعلی بھٹو کے گھروں میں شاندار لائبریریاں کرتی ہیں جہاں دنیاکے تقریباً ہر موضوع پر کتابیں موجود ہیں اور ان کتابوں کو سجاوٹ کے بجائے حصولِ علم کے لیے لائبریریوں میں آراستہ کیا گیا ہے جس کا ثبوت ان کتابوں پر لگائے گئے نشانات ہیں ۔

یقینا یہ پاکستان کے روایتی جاگیردار سیاستدانوں کے برعکس ایک روایت ہے۔‘‘امریکہ سے تعلیم مکمل کرکے پاکستان واپسی کے بعد ذوالفقارعلی بھٹو سیاسیات کے ایک طالبِ علم کی حیثیت سے پاکستانی سیاست کا مطالعہ اور مشاہدہ کرتے رہے۔ حسین شہید سہروردی جیسے مایۂ ناز اور عوامی سیاستدان کے ساتھ ان کی بحثیں دوستی میں بدل گئیں حالانکہ سہروردی، ذوالفقارعلی بھٹو کے والد کے دوست تھے۔ یہ وہ دور تھا جب پاکستان کا حکمران طبقہ وفاقی نظام کے بجائے ون یونٹ ملک کے لیے لازم قرار دے رہا تھا۔ ایسے میں ذوالفقارعلی بھٹو نے سندھ کے حقوق کے لیے ایک تنظیم بھی قائم کی جس کا نام ’’سندھ یونٹ فرنٹ‘‘ رکھا۔ اس پلیٹ فارم کے زیرِاہتمام تقاریر اور تحریروں کے ذریعے ذوالفقارعلی بھٹو نے ون یونٹ کے مضمرات اور نقصانات پر روشنی ڈالی۔ نوجوان بھٹو کے ترقی پسند اور روشن خیال نظریات نے حسین شہید سہروردی کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ یہ نوجوان پاکستان کے لیے ایک قابلِ قدر سرمایہ ثابت ہوسکتا ہے۔ ان کی خواہش تھی کہ ذوالفقار علی بھٹو عوامی لیگ میں شامل ہوجائیں۔ اس کے لیے ایک مرتبہ شیخ مجیب الرحمن بھی بھٹو سے ملے لیکن بھٹو نے عوامی لیگ میں شمولیت سے انکار کردیا۔ حسین شہید سہروردی اور سکندر مرزا کی خواہش پر ذوالفقارعلی بھٹو کو ستمبر 1957ء میں اقوامِ متحدہ میں نمائندگی کے لیے ایک وفد میں شامل کیا گیا۔

اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم پر ذوالفقارعلی بھٹو نے ’’امنِ عالم اور جارحیت‘‘ کے موضوع پر تقریر کی۔ یہ ذوالفقارعلی بھٹو کی پہلی ایسی پرفارمنس تھی جس نے نوجوان ذوالفقارعلی بھٹو کی صلاحیتوں کو بے نقاب کیا۔ بھٹو نے جارحیت کی ایسی تعریف کی جس پر اقوامِ متحدہ کے دیگر وفود بھی داد دیئے بغیر نہ رہ سکے۔ جب واپس وطن لوٹے تو ذوالفقارعلی بھٹو کی ذہانت اور قابلیت اپنا آپ منوا چکی تھی۔ اسی لیے مارچ 1958ء میں ان کو دوبارہ اقوامِ متحدہ کی ایک کانفرنس منعقدہ جنیوا میں بھیجا گیا جہاں ذوالفقارعلی بھٹو نے بحری سرحدات کے مسئلے پر پاکستانی مؤقف کی وکالت کرتے ہوئے عالمی امور کے ماہرین کو قائل کرلیا۔ اس طرح ذوالفقارعلی بھٹو پاکستانی سیاست کے ایوانوں میں اپنی حیثیت بھی منوانے میں کامیاب ہوچکے تھے۔اکتوبر 1958ء کو جنرل ایوب خان نے ملک میں پہلا مکمل اور بھرپور مارشل لاء لگا دیا۔ پاکستان میں پہلے مارشل لاء کو عوامی سطح پر خوش آمدید کہا گیا۔ یوں پہلی بار فوج براہِ راست حکومت اپنے ہاتھوں میں لینے میں کامیاب ہو ئی۔ ایوب خان کا مارشل لاء ایک طاقتور اور جابر مارشل لاء تھا۔

اس کو ملک کے اندر اور باہر (امریکہ اور مغرب) کی حمایت حاصل تھی۔ ایوبی مارشل لاء نے عوام کو یہ تاثر دیا کہ ہم ملک کو سیاسی اور معاشی استحکام دینے میں کامیاب ہوں گے۔ اس لیے ہمیں سیاسی اور معاشی منصوبے تشکیل دینے ہیں۔ ایوب خان نے جو کابینہ تشکیل دی اس میں ذوالفقارعلی بھٹو بھی شامل تھے۔ وہ ایوبی کابینہ میں سب سے کم عمر وزیر تھے۔ ان کی عمر اس وقت 30 سال تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو کو وزارتِ صنعت و تجارت کا وفاقی وزیر نامزد کیا گیا۔ ذوالفقارعلی بھٹو، صدرِ پاکستان سکندر مرزا کی سفارش پر وزیر نامزد ہوئے۔ جنرل ایوب خان نے سکندر مرزا کو معزول کرکے اکتوبر میں تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لیے لیکن نوجوان ذوالفقارعلی بھٹو سمیت تمام کابینہ کو کام کرنے کا موقع فراہم کیا۔ اس طرح ذوالفقارعلی بھٹو نے وزارتِ صنعت و تجارت کے اعلیٰ عہدے سے ملکی سیاست میں عملی زندگی کا آغاز کیا۔ ایوب خان کا مارشل لاء امریکی حمایت سے مسلط کیا گیا اور امریکہ کے عالمی اور علاقائی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری تھا کہ چین اور سوویت یونین کے اثرورسوخ کو بتدریج محدود کرتے کرتے ختم کر دیا جائے۔

پاکستان کے دونوں حصوں، مشرقی اور مغربی پاکستان میں بائیں بازو کی جماعتوں اور نظریات کو کچلنے کے لیے فوجی آمریت ایک بہترین آلہ ثابت ہوسکتی تھی۔ چونکہ پاکستان کے دونوں بازوئوں کے درمیان بھارت ایک جمہوری نظام قائم کرنے میں کامیاب ہوچکا تھا اور وہاں پر جواہر لعل نہرو امریکہ کے سب سے بڑے مخالف سوویت یونین کا اتحادی بن چکا تھا۔ البتہ چین کے ساتھ اس کے سرحدی تنازعات کے سبب تعلقات بہت زیادہ حد تک ناساز تھے لیکن بھارت نہایت ہوشیاری سے ایک حد تک نیشنلسٹ خارجہ پالیسی پر گامزن تھا جبکہ امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات دوطرفہ بنیادوں پر استوار تھے لیکن پاکستان میں چونکہ جمہوریت جڑیں نہیں پکڑ پائی تھی اس لیے پاکستان تیسری دنیا کے ان بدنصیب ممالک میں سے ایک تھا جہاں پر امریکہ نے فوجی آمریت کے ذریعے اپنا اثرورسوخ نہ صرف قائم کرلیا بلکہ اس کی بالادستی پاکستانی اشرافیہ یعنی فوجی و سول بیوروکریسی، جاگیردار اور مذہبی قوتوں پر قائم ہوگئی۔ اس طرح ایوبی مارشل لاء ایک طرف مغربی قوتوں اور دوسری طرف پاکستان کے روایتی حکمران طبقات کی مدد سے طاقت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ب

ھارت کے ساتھ کشمیر کے تنازع کے سبب ہمارے تعلقات شروع سے ہی خوشگوار نہیں رہے۔ کشمیر جو بھارت، پاکستان اور چین کے سنگم پر واقع ہے دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کو روزبروز بڑھانے کا باعث بناجبکہ بھارت اور چین کے مابین تنازع نے بھی پاکستان کو چین کے قریب ہونے کے مواقع فراہم کیے۔لیکن یہ حقیقت کبھی نہیں جھٹلائی جاسکتی کہ برِصغیرِ پاک و ہند اس دوران ترقی پسند تحریکوں کا مرکز بنتا چلا جارہا تھا۔ سری لنکا، مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) اور بھارت کے اندر، بنگال، بہار، آسام اور ناگالینڈ میں سوشلسٹ نظریات پر مبنی ملی ٹینٹ (جنگجو)تحریکیں اپنے عروج پر تھیں بلکہ بھارت کے اندر نکسل باڑی ایک مسلح تحریک کے طور پر ابھری۔ اس مائونواز سوشلسٹ تحریک نے بھارت کے بورژوا جمہوری نظام کو ایک بار ہلا کر رکھ دیا۔ اس طرح مغربی پاکستان میں ترقی پسند نظریات کی چنگاری سلگنے لگی لیکن ایوبی آمریت نے اسے دبائے رکھا بلکہ ان خطرات کے پیشِ نظر پاکستان میں نام نہاد بنیادی جمہوریت (Basic Democracy) کا نظام مسلط کر دیا گیا تاکہ پاکستان میں عوامی آواز کو ابھرنے ہی نہ دیا جائے اور کوشش کی کہ جمہوریت کو ایک نئے نام کے تحت لوگوں کو کنٹرولڈ ڈیموکریسی کی بھول بھلیوں میں مصروف رکھا جائے۔

امریکی فوجی، اقتصادی اور سیاسی امداد نے ایوب خان کی حکومت کو تقویت پہنچائی لیکن حقیقت میں یہ نظام اندر سے شدت کے ساتھ کھوکھلا تھا کیوں کہ سماجی تبدیلیاں جو دن بدن جنم لے رہی تھیں پاکستانی حکمران اور اس کے عالمی اتحادی انہیں دیکھنے کی استعداد سے یکسر عاری تھے لیکن ظاہری طور پر ایوب خان کی قیادت میں ایک طاقتور حکومت پاکستان کے عوام کو خوفزدہ رکھنے میں کامیاب نظر آرہی تھی۔ ایوب خان کی حکومت میں نوجوان ذوالفقارعلی بھٹو کا کردار ایک قوم پرست سیاستدان کے طور پر ابھرا جس نے عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کو مضبوط کرنے اور اپنے عوام کی خوشحالی کے لیے کوئی کسر نہ چھوڑی۔پاکستان کی امریکہ نوازی کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب پاکستان کے اندر سے اڑ کر سوویت یونین کی جاسوسی کرنے والے امریکی جاسوس طیارے U-2 کو سوویت یونین نے پکڑ کر پاکستان کی طرف سے امریکہ کو اپنے ہوائی اڈے استعمال کرنے کی سہولت کا راز افشا کردیا۔ حکومت کے اس کردار نے پاکستان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا لیکن یہ سہرا بھی ذوالفقارعلی بھٹو کے سر ہے کہ انہوں نے سوویت یونین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو دوستی پر لانے کی کوشش کی۔

اس طرح 1960ء کے آخری مہینوں میں سوویت یونین کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے لیے کوششیں کارآمد ثابت ہوئیں۔ذوالفقارعلی بھٹو نے بحیثیت وزیر قدرتی وسائل سوویت یونین کا دورہ کرکے سوویت یونین سے 30 ملین امریکی ڈالر کی امداد حاصل کی۔ پاکستان نے تیل کی تلاش کے منصوبوں کے لیے یہ امداد سوویت یونین کو امریکی ڈالروں کے بجائے پاکستانی روپے میں واپس کرنی تھی ۔یہ ایک کامیاب معاہدہ بھی تھا اور ذوالفقارعلی بھٹو کی صلاحیتوں کا عملی آغاز بھی۔ سوویت یونین کے دورے کے دوران ذوالفقارعلی بھٹو کی ملاقات سوویت راہنما خروشیف سے ہوئی۔ کریملن میں ذوالفقارعلی بھٹو نے سپر طاقت کے اس راہنما سے ملاقات کی جو چند ماہ پہلے پاکستان سے امریکی جاسوس طیارے U-2 کے معاملے پر سخت ناراض تھا۔ یہ طیارہ ترکی کے ہوائی اڈے INCIRLIK سے پشاور کے بڈبیر کے ہوائی اڈے پر منتقل ہوا تھا اور اس کے پکڑے جانے کے بعد سوویت راہنما خروشیف نے دنیا بھر میں جس شدت کے ساتھ اپنی آواز کو بلند کیا تھا، اس نے پاکستانی حکمرانوں کو سخت خوفزدہ کردیا تھا لیکن بھٹو سے ملاقات کے بعد پاک سوویت تعلقات میں جو استحکام پیدا ہوا اس نے پاکستان اور بھٹو دونوں کے امیج کو مثبت انداز میں اجاگر کردیا۔

سوویت یونین کے ساتھ تیل کی تلاش کے اس معاہدے کے خلاف کیبنٹ میں ذوالفقارعلی بھٹو کو کافی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ کیبنٹ میں مغرب نواز وزیرِ خزانہ اور وزیرِ خارجہ نہیں چاہتے تھے کہ سوویت یونین کے ساتھ تعلقات استوار کیے جائیں لیکن نوجوان ذوالفقارعلی بھٹو تمام مخالفتوں کے باوجود حقیقت پسندانہ پالیسی اپنانے اور اس پر عملدرآمد کرنے میں کامیاب ہوئے۔1962ء میں ایوب خان نے پاکستان میں نئے آئین کا نفاذ کرکے پورے ملک سے مارشل لاء کو ختم کرکے بنیادی جمہوریت (Basic Democracy) نافذ کی۔ درحقیقت یہ Guided Democracy یا Directed Democracy کا ایک نظام تھا جس پر ایوب خان کو آمرانہ اختیارات حاصل تھے۔ ایوب خان نے سیاسی ڈھانچے کی تشکیل کے لیے پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ کے سہارے کو استعمال کیا۔ مسلم لیگ کے اراکین کا ایک کنونشن بلایا گیا جس کی صدارت فیلڈ مارشل ایوب خان کے حصے میں آئی۔

اس طرح حکومتی ایوانوں سے کنونشن مسلم لیگ کی بنیاد رکھ کر ایک نئے دور کا آغاز کیا گیا۔ یہ جمہوریت، آمریت اور سیاست کی ایک پیوندکاری تھی جس میں عوام کی آواز بالواسطہ طور پر شامل کرکے ان کے حقوق پر شخصی اقتدار کو نام نہاد جمہوری رنگ دیا گیا۔1964ء میں صدارتی انتخاب کے موقع پر پاکستان کی اپوزیشن جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہوگئیں۔ ایوب خان کو متحدہ اپوزیشن پارٹی (Combined Opposition Party) کی طرف سے مادرِ ملت فاطمہ جناح جیسی جرأت مند راہنما کا سامنا تھا۔ پاکستان کے بانی محمدعلی جناح کی بہن محترمہ فاطمہ جناح کو طویل سیاسی تجربہ حاصل تھا جبکہ اقتدار کے ایوانوں پر قابض ایوب خان فقط حکومتی مشینری کی بنیاد پر پاکستان کی مقبول خاتون راہنما کا مقابلہ کررہا تھا۔ سی او پی میں کونسل مسلم لیگ، نیشنل عوامی پارٹی، عوامی لیگ، نظامِ اسلام پارٹی اور جماعتِ اسلامی شامل تھیں۔ ایک خاتون راہنما کا ایک فیوڈل اور پسماندہ سماج میں ایک فوجی ڈکٹیٹر کے سامنے عوامی حقوق کی بحالی کے لیے کھڑا ہوجانا خطے کی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے۔

یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کے عوام رجعت پسندانہ اور تنگ نظر خیالات کو مسترد کرکے ایک روشن خیال فیصلہ کرچکے تھے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ خاتون کی قیادت (محترمہ فاطمہ جناح) کو جماعتِ اسلامی بھی ماننے پر مجبور تھی۔ یہ صرف عوام کی خواہش کے سبب ممکن ہوا۔ دراصل پاکستان کے عوام نے ڈکٹیٹرشپ کے خلاف جمہوریت کی بحالی کے لیے ایک خاتون کو اپنا قائد تسلیم کرتے ہوئے جدوجہد کا پرچم بلند کرکے ایک طرف اپنی روشن خیالی کا مظاہرہ کیا تھا اور دوسری جانب یہ ثابت کیا کہ آمریت کے شخصی اختیارات کے خلاف پاکستان کے عوام عورت اور مرد کی تخصیص کیے بغیر متحد ہیں اور وہ ہر صورت میں جمہوریت کے خواہاں ہیں۔ جنرل ایوب خان کے لیے یہ صورتحال نہایت پریشان کن تھی۔ اس طرح سی او پی کے پرچم تلے ایک خاتون قیادت نے ڈکٹیٹرشپ کی چولیں ہلا کر رکھ دیں۔ فاطمہ جناح نے ایوب خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ:’’اس ڈرل ماسٹر کو، اپنے آپ کو فیلڈ مارشل کہنے کا کوئی حق نہیں۔

‘‘71 سالہ مادرِ ملت فاطمہ جناح نے ایوب آمریت کے خلاف کھڑے ہوکر پاکستان کی سیاست میں ایک ایسا شگاف ڈالا جس سے ایوبی آمریت کی شکست کا آغاز ہوا لیکن ٹوٹتے ہوئے نظام نے انتخابات میں دھاندلی کا سہارا لے کر اپنے آپ کو بچانے کی عارضی طور پر کامیاب کوشش کی اور اس طرح جنرل ایوب خان نے یہ ثابت کر دکھلایا کہ فوجی حکمرانوں کے نزدیک جہاں جمہوریت اور سیاست کی کوئی قدر نہیں ہوتی وہاں وہ اپنے وطن کے خالقوں اور عوام کو بھی دھونس اور دھاندلی کے تحت شکست دینے جیسے قبیح عمل سے بھی گریز نہیں کرتے ہیں۔ تاریخی طور پر عوام کو شکست دینے کے ایسے مصنوعی اقدامات عوامی فتح کو التوا میں تو ڈال سکتے ہیں مگر ختم نہیں کرسکتے۔ فاطمہ جناح کا جنرل ایوب خان کے خلاف صدارتی انتخاب لڑنے کا فیصلہ پاکستانی سیاست میں جمہوریت او ر روشن خیالی کے ایسے بیج بو گیا جس کے پودے چند سالوں بعد نمودار ہوئے۔ فاطمہ جناح کی انتخابی مہم میں 1962ء کے مسلط کردہ آئین اور نام نہاد بنیادی جمہوریت کے نظام کو بھی مسترد کیا گیا۔ اس انتخابی مہم نے پاکستانی عوام کی سیاسی تعلیم و تربیت کا بھی کام کیا جو کہ بعد میں ایوبی آمریت کے لیے تباہی کا باعث بنی۔ (ذوالفقار علی بھٹو کی کتاب میرا لہو کا بقیہ حصہ آئندہ ہفتے چوتھی قسط میں پڑھیں)