اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر نے پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی جانب سے انتخابات ملتوی کرنے کے مطالبے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر نے سابق وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر اور مشتاق مہناس سمیت دیگر رہنماؤں کے ہمراہ کشمیر کونسل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آئین اور قانون کے تحت موجودہ اسمبلی کی مدت 3 اگست کو مکمل ہو جائے گی اور الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق 27 جولائی سے انتخابات کو آگے بڑھانے کی کوئی گنجائش نہیں۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کی صورتحال انتہائی سنگین ہے اور بند راستے فوری طور پر کھول کر اشیائے ضروریہ کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن بطور اپوزیشن اس صورتحال میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
شاہ غلام قادر نے کہا کہ جنگوں کے دوران بھی انتخابات کا انعقاد ہوتا ہے، مسلم لیگ ن 1974 کے آئین کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے، اگر انتخابات ملتوی کیے گئے تو یہ جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہوگا۔
یاد رہے کہ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر نے خطے کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث انتخابات مؤخر کرنے کا مطالبہ کیا تھا، تاہم الیکشن کمیشن کے مطابق آئینی مدت مکمل ہونے سے قبل 60 روز کے اندر انتخابات کرانا لازمی ہیں۔
شاہ غلام قادر نے پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو عوام کی عدالت میں جانا چاہیے اور پیپلز پارٹی کو انتخابات سے راہِ فرار اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی کی مقامی قیادت نے اپنی قیادت کو غلط معلومات فراہم کیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر موجودہ ماحول میں انتخابات ممکن ہیں تو پھر کون لوگ ہیں جو انہیں ملتوی کروانا چاہتے ہیں۔
انہوں نے آزاد کشمیر میں راستوں کی بندش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے عوام کو اشیائے ضروریہ کی فراہمی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، لہٰذا فوری اقدامات کیے جائیں۔
پریس کانفرنس میں انہوں نے مشعال ملک کے بیانات پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں سیاست کے بجائے اپنے ذاتی معاملات پر توجہ دینی چاہیے اور ن لیگ کے خلاف بیان بازی سے گریز کرنا چاہیے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






