عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے اور اتار چڑھاؤ سے نمٹنے کے لیے بلائے گئے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں صارفین کو پرائس شاک سے بچانے کے لیے پرائس اسٹیبلائزیشن فنڈ کے قیام کا جائزہ لیا گیا اور علاقائی و عالمی سطح پر ایسے فنڈز کے تجربات کا تفصیلی مطالعہ کیا گیا۔
کمیٹی نے بتایا کہ بڑے عالمی بحرانوں کے دوران پرائس اسٹیبلائزیشن فنڈز مسلسل ناکام رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے کامیاب قرار دیے گئے بعض ماڈلز بھی بڑے جھٹکوں میں مؤثر ثابت نہیں ہوئے۔
اس لیے کمیٹی نے فنڈ قائم نہ کرنے کی تجویز دی ہے اور اس کے بجائے قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور سپلائی شاک سے نمٹنے کے لیے اسٹریٹجک حکمت عملی اپنانے کی سفارش کی ہے۔
اجلاس میں ٹارگٹڈ کیش سبسڈی دینے اور تیل کے ذخائر بڑھانے کی تجاویز بھی زیر غور آئیں۔ ذرائع کے مطابق فنڈ کے قیام سے شعبہ جاتی لیکویڈیٹی متاثر ہونے، مارجن محدود ہونے اور آئل سیکٹر میں سرکلر ڈیٹ کے بحران کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
کمیٹی کے مطابق ڈی ریگولیٹڈ پرائسنگ نظام میں ریاستی پرائس اسٹیبلائزیشن فنڈ کا تصور مؤثر نہیں، اس لیے ذخائر یا ٹارگٹڈ سبسڈی جیسے متبادل اقدامات اختیار کیے جائیں۔






