شانگلہ: ملاکنڈ ڈویژن کی خصوصی حیثیت میں تبدیلی اور ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف تاجر تنظیموں کی کال پر آج 30 ستمبر بروز بدھ جزوی طور پر ہڑتال ہوگی، جبکہ ٹرانسپورٹ بھی بند رہے گی۔
مختلف حلقوں، تاجروں اور ڈویژن بھر کے عوام نے ملاکنڈ ڈویژن کی خصوصی حیثیت میں تبدیلی کو کسی صورت قبول نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن ایک خصوصی حیثیت رکھنے والا علاقہ ہے، اس کی خصوصیت تبدیل کرکے ٹیکسوں کا نفاذ کیا گیا ہے جو کسی صورت یہاں کے کسی بھی فرد کو منظور نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن کے پاکستان میں انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں اور معاہدوں کی اس وقت مکمل پاسداری کی ضرورت ہے۔ شدید مشکل حالات، قدرتی آفات اور ملیٹینسی سمیت کمزور ٹریڈ کی وجہ سے ملاکنڈ ڈویژن کے لوگ معاشی طور پر ٹیکس دینے کے متحمل نہیں۔
تاجر تنظیموں اور مختلف حلقوں نے مطالبہ کیا کہ ملاکنڈ ڈویژن کو دی گئی خصوصی حیثیت فوری بحال کی جائے اور ٹیکسوں کا خاتمہ کیا جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ آج 30 ستمبر بروز بدھ ہونے والی احتجاجی تحریک، شٹر ڈاؤن ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے واضح کردیں گے کہ ملاکنڈ ڈویژن کا کوئی بھی فرد اپنی خصوصی حیثیت کی تبدیلی اور یہاں ٹیکسوں کے نفاذ کو کسی صورت قبول نہیں کرتا۔
ملاکنڈ ڈویژن کے مختلف حلقوں کے مطابق علاقے کی اپنی ایک خصوصی حیثیت ہے اور یہاں کے لوگ پاکستان میں انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں اور تحریری معاہدوں کی پاسداری چاہتے ہیں، نہ کہ وہ ٹیکس دینے کی پوزیشن میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 1973 کے آئین کے آرٹیکل 247 کے مطابق ان علاقوں کو خصوصی حیثیت، ٹیکس سے استثنیٰ اور قانونی و آئینی حیثیت حاصل تھی۔ ان کے مطابق اس قانونی و آئینی حیثیت میں تبدیلی کے وقت تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر کوئی حتمی فیصلہ کیا جا سکتا تھا، مگر حکومت نے یکطرفہ فیصلہ کرتے ہوئے یکم جولائی سے ان علاقوں کی خصوصیت ختم کرکے یہاں ٹیکس نافذ کردیا، جس کے لیے یہاں کا کوئی بھی فرد تیار نہیں اور نہ ہی اس یکطرفہ فیصلے کو ماننے کے لیے تیار ہے۔
دوسری جانب صوبائی حکومت نے صوبائی ٹیکس کی وصولی کے حوالے سے نوٹیفکیشن بھی جاری کیا، جس کے بارے میں محکمہ خزانہ کے مطابق اسے صرف قرارداد تک محدود رکھا گیا ہے اور باقاعدہ طور پر کسی بھی قسم کی محکمانہ کارروائی اب تک نہیں ہوئی، جبکہ ٹیکس بھی سرکاری اور نجی کاروباری شخصیات اور لوگوں سے کاٹے جا رہے ہیں، جو ایک ظالمانہ اقدام ہے۔
ادھر میڈیا رپورٹس کے مطابق مرکزی حکومت نے بھی فیصلہ کیا ہے کہ ان علاقوں کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کرکے یہاں ٹیکس کی وصولی کی جائے گی اور اس حوالے سے کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے۔
تاہم میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کمیٹی نے آئی ایم ایف اور دیگر مرکزی اداروں سے رپورٹ طلب کی ہے، جس میں ملاکنڈ ڈویژن کے ٹیکس فری زون کے حوالے سے تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آخرکار یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ان علاقوں کی خصوصی حیثیت اور فری ٹیکس زون کا خاتمہ کیا جائے اور یہاں ٹیکس کی وصولی کے لیے باقاعدہ طور پر کیے گئے قوانین پر عمل درآمد کیا جائے، تاہم اس حوالے سے سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
تاجر تنظیموں اور ملاکنڈ ڈویژن کے مختلف حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن کو دی گئی خصوصی حیثیت فوری طور پر بحال کی جائے، ٹیکسوں کا نفاذ ختم کیا جائے اور پاکستان میں انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں اور تحریری معاہدوں کی مکمل پاسداری کی جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن کے عوام شدید مشکل حالات، قدرتی آفات، ملیٹینسی اور کمزور ٹریڈ کے باعث مزید ٹیکسوں کا بوجھ برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں اور خصوصی حیثیت میں یکطرفہ تبدیلی کسی صورت قابل قبول نہیں۔






