اسلام آباد (آئی این پی) وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر کے درمیان رابطہ خوش آئند ہے، اس ذریعے کو بات چیت کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔
پروگرام ’’ندیم ملک لائیو‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ علی امین گنڈاپور کا بھی وزیر داخلہ سے رابطہ رہا ہے اور حکومت نے ہمیشہ ایسے رابطوں کو سراہا ہے۔ سیاستدانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ میثاقِ جمہوریت ہوا تو اس کے بعد ایک تیسرا فریق آگیا، جس کے اثرات آج تک سنبھالے نہیں جا رہے۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر بات کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ فیصلہ سیاسی بنیاد پر نہیں تھا۔ ان کے مطابق عمران خان کو شفا اسپتال لے جانے کا پروگرام تھا، تاہم سکیورٹی اداروں نے خدشات ظاہر کیے کہ وہاں امن و امان کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے، جس کے بعد پمز میں طبی معائنہ کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔
رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ حکومت نے عدالتی فیصلے پر جو مؤقف اختیار کیا وہ درست ہے، قانون کے مطابق کسی قیدی کا سرکاری اسپتال سے باہر علاج نہیں ہوسکتا۔ وزیراعظم توہین عدالت کی درخواست میں فریق نہیں جبکہ درخواست میں محسن نقوی کے بجائے سیکریٹری داخلہ کا نام شامل ہے۔
9 مئی کے واقعات پر انہوں نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر واضح کر چکے ہیں کہ یہ ادارے پر حملہ تھا اور اسے معاف یا فراموش نہیں کیا جائے گا۔ ان کے بقول 9 مئی کو فوج میں بغاوت کی کوشش کی گئی، جو ایک سنگین جرم ہے۔
پمز اسپتال واقعے پر رانا ثنااللہ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کی مکمل انکوائری ہونی چاہیے اور ذمہ دار افراد کو سزا ملنی چاہیے۔ وزیراعظم نے واقعے پر اعلیٰ سطح کا اجلاس طلب کرکے تمام معاملات کا جائزہ لیا ہے، جو بھی ذمہ دار ثابت ہو اسے مثال بنانا چاہیے۔






