//

عامر خان نے اپنی کامیابی کے پیچھے چھپی دردناک داستان بیان کر دی

بالی وڈ سپر اسٹار عامر خان نے اپنے فلمی کیریئر کے ابتدائی دنوں میں پیش آنے والی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ وہ کام سے واپس آ کر اکثر رویا کرتے تھے۔

ایک تقریب کے دوران گفتگو میں عامر خان نے بتایا کہ 1988 میں فلم “قیامت سے قیامت تک” سے فلمی دنیا میں قدم رکھا، جس کی کامیابی نے انہیں راتوں رات شہرت تو دی، لیکن اس کے باوجود وہ بڑے ہدایت کاروں کی توجہ حاصل نہ کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ ان کے نام ایک بڑی کامیاب فلم تھی، لیکن جن فلم سازوں کے ساتھ وہ کام کرنا چاہتے تھے، ان میں سے کسی نے بھی ان سے رابطہ نہیں کیا۔ اس دور میں اداکار بیک وقت درجنوں فلموں میں کام کرتے تھے، اسی لیے انہوں نے بھی تقریباً 8 سے 10 فلمیں سائن کر لیں۔

عامر خان کے مطابق انہوں نے زیادہ تر نئی ہدایت کاری کرنے والوں کی فلمیں اسکرپٹس کی بنیاد پر منتخب کیں، مگر چند ہی ماہ بعد انہیں احساس ہوا کہ یہ فیصلہ درست نہیں تھا۔ اس کے باوجود انہوں نے اپنے تمام وعدے نبھائے اور تمام فلمیں مکمل کیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی کئی فلمیں یکے بعد دیگرے ناکام ہوتی گئیں، جس کے بعد انہیں “ون فلم ونڈر” کا لقب دیا جانے لگا۔ ان کے بقول، ہر نئی ناکام فلم کے ساتھ انہیں محسوس ہوتا تھا کہ وہ مزید مشکلات میں گھرتے جا رہے ہیں۔

عامر خان نے کہا کہ وہ اپنے کام سے مطمئن نہیں تھے اور اکثر شوٹنگ سے واپس آ کر روتے تھے، کیونکہ وہ جس معیار کا کام کرنا چاہتے تھے، حالات اس کے برعکس تھے۔ تاہم انہی تجربات نے انہیں مستقبل میں بہتر فیصلے کرنے اور اپنے کیریئر کو نئی سمت دینے میں مدد دی۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close