تہران (آئی این پی): ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ محمد باقر ذوالقدر نے کہا ہے کہ امریکی اہداف کے خلاف کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک دشمن مکمل طور پر ہتھیار نہیں ڈالتا اور مناب و لیمرد میں بچوں کے قتل عام کا بدلہ نہیں لیا جاتا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق محمد باقر ذوالقدر نے اپنے بیان میں کہا کہ خطے میں دھوئیں کے بادل اس بات کی علامت ہیں کہ کسی امریکی فوجی، سکیورٹی یا مالی مرکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی فوج کی جانب سے مسلسل حملے بیدار ایرانی قوم کے غصے کا اظہار ہیں، جو عالمی بالادستی کے نظام کے خلاف جاری ہیں اور یہ کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک دشمن ہتھیار نہیں ڈال دیتا اور مناب و لیمرد کے بچوں کے خون کا حساب نہیں لیا جاتا۔
رپورٹ کے مطابق ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی کئی ماہ سے جاری ہے۔ بعد ازاں پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی اور مذاکرات کی کوششیں بھی ہوئیں، تاہم فریقین کی جانب سے ایک دوسرے پر مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کے الزامات کے بعد دوبارہ حملوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ 13 روز کے دوران ایران کے مختلف علاقوں میں فضائی کارروائیاں کیں، جن میں مواصلاتی ڈھانچے، پلوں اور پانی کی تنصیبات سمیت شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں 55 افراد جاں بحق جبکہ 645 زخمی ہوئے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران نے جوابی کارروائیوں میں ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






