گزشتہ 10 دنوں سے نئی دہلی کے جنتر منتر پر جاری دھرنے اور پچھلے ڈیڑھ ماہ سے بھارت بھر میں جاری طلبا احتجاج کے دباؤ کے بعد وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے بالآخر اپنے عہدے سے استعفا دے دیا ہے۔
ڈیڑھ صفحات پر مشتمل اس تحریری استعفے میں نہ تو کسی غلطی کا اعتراف کیا گیا اور نہ ہی کوئی معافی مانگی گئی۔ ہندی زبان میں تحریر کردہ اس خط کے متن کے مطابق دھرمیندر پردھان کا کہنا تھا کہ انہوں نے گزشتہ چار دہائیوں سے خود کو طلباء، اساتذہ اور تعلیمی نظام کی اصلاح کے لیے وقف کر رکھا ہے۔
انہوں نے تحریر کیا کہ وہ ملک کے نوجوانوں کی امنگوں، جذبات اور منصفانہ توقعات کا دل سے احترام کرتے ہیں، اور ہندوستان کی نوجوان نسل کے خوابوں کی تعبیر ان کی تمام سیاسی و سماجی زندگی کا اخلاقی عزم رہا ہے۔
خط میں مزید کہا گیا کہ 3 مئی 2026 کو منعقد ہونے والے NEET-UG امتحان میں بے ضابطگیاں سامنے آئیں، جس پر بھارتی حکومت نے فوری ایکشن لیتے ہوئے معاملے کی تحقیقات سی بی آئی کے سپرد کیں، امتحان منسوخ کر کے دوبارہ منعقد کیا، اور اگلے سال سے امتحان کو سی بی ٹی (کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹ) موڈ پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
دھرمیندر پردھان نے مؤقف اپنایا کہ اس تمام عرصے کے دوران ان کی سب سے پہلی ترجیح 20 لاکھ سے زائد طلبہ کے امتحانات کو شفاف انداز میں یقینی بنانا تھی، جس کے لیے پوری حکومتی حکمت عملی، ریاستی حکومتوں، بالخصوص ضلعی انتظامیہ، اور طلباء و ان کے والدین کے تعاون سے 21 جون 2026 کو امتحان کا مرحلہ مکمل کیا گیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے پہلے دن سے اس معاملے کی ذمہ داری قبول کی اور کبھی حالات سے نظریں نہیں چرائیں، جبکہ ان کا عزم تھا کہ وہ کسی بھی امتحان مافیا کو ہونہار طلباء کے مستقبل سے کھیلنے نہیں دیں گے اور نہ ہی کسی طالب علم کے ساتھ ناانصافی ہونے دیں گے۔
سابق وزیر تعلیم نے اشارہ کیا کہ 16 جولائی کو جاری ہونے والے NEET-UG کے نتائج تسلی بخش رہے اور غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والے متعدد ہونہار طلباء نے بھی کامیابی حاصل کی۔ تاہم، انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ اس دوران بھی ذمہ دار عہدوں پر بیٹھے افراد نے طلباء کو گمراہ کرنے اور رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوششیں کیں، جس سے انہیں دلی دکھ پہنچا۔
انہوں نے جمہوری نظام پر اپنے کامل ایمان کا اظہار کرتے ہوئے نوجوانوں کو نئے اور ترقی یافتہ بھارت کا معمار قرار دیا اور کہا کہ وہ گزشتہ 10 دنوں کے واقعات سے آزردہ ہیں۔ ان کے مطابق یہ معاملہ ان کی ذات یا وقار کا نہیں ہے، بلکہ وہ ملک کی اصل طاقت یعنی نوجوانوں کو کسی مغالطے یا کنفیوژن میں نہیں رہنے دینا چاہتے۔
استعفے کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے تحریر کیا کہ جنتر منتر اور ملک بھر میں جو صورتحال بنی ہے، اسے ملک دشمن عناصر اپنے مفاد کے لیے استعمال نہ کر سکیں، ملک کی سلامتی و یکجہتی برقرار رہے، اور طلباء کا مستقبل قانونی الجھنوں میں ضائع ہونے کے بجائے ان کی تعلیم اور کیریئر پر مرکوز رہے—انہی باتوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے انہوں نے اپنا استعفا وزیراعظم کو بھیج دیا ہے۔
خط کے اختتام پر انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی کی رہنمائی اور اعتماد پر ان کا شکریہ ادا کیا، نیز اپنی کابینہ کے ساتھیوں اور وزارتی عملے کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے عزم ظاہر کیا کہ قوم کی خدمت ان کی زندگی کی اولین ترجیح رہے گی۔
واضح رہے کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے فوری بعد حکومتی وزراء اور کاکروچ جنتا پارٹی کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کا ایک اور دور ہوا، جس میں تمام مطالبات کی منظوری اور کامیابی کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی نے طلبا احتجاج کو باضابطہ طور پر ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






